ملفوظات (جلد 9) — Page 129
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۹ جلد نهم مشکل ہے۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ قرآن شریف نے اعتقادی مسائل کو ایسی فصاحت کے ساتھ سمجھایا ہے جو بے مثل اور بے مانند ہے اور اس کے دلائل دلوں پر اثر ڈالتے ہیں یہ قرآن ایسا بلیغ اور فصیح ہے کہ او عرب کے بادیہ نشینوں کو جو بالکل ان پڑھ تھے سمجھا دیا تھا تو پھر اب کیوں کر اس کو نہیں سمجھ سکتے ۔ اے ( قبل از نماز عصر ) تفریحی سفر ریاست جموں کے ایک معز ہندو اہلکا سا کن قادیان حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر تھے۔ اثنائے گفتگو میں انہوں نے کشمیر کی آب و ہوا کی تعریف کرتے ہوئے عرض کیا کہ جناب بھی کبھی کشمیر کی سیر کے واسطے تشریف لاویں۔ فرمایا۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ صرف تفریح کے واسطے یا سیر و تماشا کے واسطے کوئی سفر کریں۔ ہاں جس دینی کا روبار میں ہم مصروف ہیں اگر اس کی ضرورتوں میں ہم کو کوئی سفر پیش آجاوے اور خدمت دین کے واسطے کشمیر جانا بھی ضروری پڑ جائے تو پھر ہم تیار ہیں کہ اس ملک کو جاویں۔ وو رسالہ جدیدہ قادیان کے آریہ اور ہم“ کا تذکرہ تھا۔ آریوں کے لیے قابل توجہ فرمایا کہ سنا گیا تھا کہ مخاطب آریوں میں سے ایک کہتا تھا کہ ہم بذریعہ اشتہار شبھ چنتک کے مضمون کی تردید کر دیتے ہیں حضرت صاحب رسالہ نہ کھیں ۔ مگر ہم نے کہا کہ اب رسالہ کا نکلنا نہیں رک سکتا۔ ان کو چاہیے کہ بعد رسالہ کے نکلنے کے تصدیق یا تکذیب میں قسم کھالیں ۔ تمام ہندوستان کے آریوں کو چاہیے کہ اس امر پر غور کریں۔ان کے واسطے اسلام پر حملہ کرنا حرام ہے جب تک کہ اس بات کا فیصلہ نہ کریں ۔ ان کو چاہیے کہ ایک ڈیپوٹیشن بنا کر ملا وامل اور شرمیت کے پاس آویں اور ان کو حلف دے کر پوچھیں کہ کیا وہ ہمارے نشانات کے گواہ ہیں یا کہ نہیں ہیں ؟ ہماری یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے مگر اس نے آریوں کا فیصلہ کر دیا ہے۔ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ سے تمام ادیان باطلہ پر تمام ادیان باطلہ پر حجت حجت قائم کر دی ہے اور ہر ایک مذہب کے متعلق ایک ایسی ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۲۱ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحه ۴، ۵