ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 128

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۸ جلد نهم کے مطابق ہوتا ہے۔ دیکھو! حضرت موسیٰ کے وقت میں پلوٹھے ہلاک ہوئے تھے تو پلوٹھوں کا اس میں کیا قصور تھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں قحط پڑا۔ تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر سب پر ہوا تھا نہ یہ کہ صرف بعض پر ہوا ہو۔ یہ لوگ سنت اللہ سے بے خبر ہیں جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں ۔ بلائل جاتی ہے فرمایا۔ تمام مذاہب کے درمیان یہ امر شفق ہے ہے کہ صدقہ خیرات کے ساتھ بلائل جاتی ہے اور بلا صدقات اور توبہ سے بلا کے آنے کے متعلق اگر خدا تعالیٰ پہلے سے خبر دے تو وہ وعید کی پیش گوئی ہے۔ پس صدقہ و خیرات سے اور توبہ کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے سے وعید کی پیش گوئی بھی ٹل سکتی ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس بات کے قائل ہیں کہ صدقات سے بلائل جاتی ہے۔ ہندو بھی مصیبت کے وقت صدقہ خیرات دیتے ہیں۔ اگر بلا ایسی شے ہے کہ ٹل نہیں سکتی تو پھر صدقہ خیرات سب عبث ہو جاتے ہیں ۔ آتھم او لیکھرام کارویہ آتھم اور لیکھرام میں بھی فرق تھا کہ پیشگوئی کو سن کر آتھم خوف کھا گیا۔ اسی وقت بھری مجلس میں کانوں کو ہاتھ لگا کر کہنے لگا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گالی نہیں دی اور تمام شوخیاں چھوڑ دیں ۔ اس واسطے اس کو چند روز اور مہلت مل گئی۔ لیکن بر خلاف اس کے لیکھرام نے شوخی اختیار کی اور روز بروز شوخی میں بڑھتا گیا۔ پس اس کو میعاد کے دنوں کی بھی پوری مہلت نہ دی گئی ۔ اگر وہ بھی آتھم کی طرح خاموش ہو جاتا اور خدا سے ڈرتا تو اس کے ایام میں بھی تاخیر دی جاتی ۔ ایسا ہی احمد بیگ نے چونکہ کوئی نمونہ نہ دیکھا ہوا تھا۔ اس نے خوف نہ کھایا اور جلد ہلاک ہوا اور پچھلے خوفزدہ ہو گئے اور مہلت حاصل کی ۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی نبی کو سب نے مان لیا ہو۔ اختلاف تو ضرور ہوتا ہی ہے۔ کچھ نہ کچھ مخالفت ضرور باقی رہتی ہے۔ ہر نبی کے وقت میں ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ فرمایا۔ بعض نادان لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کو نہیں قرآن مشکل نہیں ہے سمایا میں نادان میں ہے سمجھ سکتے اس واسطے اس کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کہ یہ بہت