ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 127

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد نهم اگر وہ انبیاء کے ساتھ شوخی سے پیش نہ آتے اور ان کی تکذیب نہ کرتے تو معمولی طور پر زندگی بسر کرتے ۔ دنیا میں جو گناہ فسق و فجور کے کرتا تھا ان کے واسطے جزا کا وقت آخرت میں رکھا گیا ہے۔ اس دنیا میں عذاب جب آتا ہے وہ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے زیادہ تر آتا ہے۔ اگر فرعون حضرت موسیٰ کے ساتھ بدسلوکی نہ کرتا تو چند دن اور دنیا میں سلطنت کر لیتا۔ معمولی گناہوں کے واسطے محاسبہ اور مؤاخذہ کا دن قیامت ہے۔ لیکن وہ گناہ جس پر خدا تعالی بڑی غیرت دکھلاتا ہے وہ اس کے فرستادوں کی تکذیب اور ان کے ساتھ شوخی سے پیش آنا ہے جبکہ شوخی حد سے بڑھ جاتی ہے اور خدا کے پاک نبیوں کو دکھ دیا جاتا ہے اور اس کے برخلاف ظلم اور شرارت اور بدمعاشی سے کام لیا جاتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو اسی دنیا میں عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اگر یہ لوگ انکسار اختیار کرتے تو ہلاک نہ ہوتے ۔ حضرت عیسیٰ نے اپنے مخالفوں کو کہا تھا کہ تم کنجروں سے بدتر ہو کیونکہ وہ گناہ کرتے ہیں پر اپنے آپ کو گناہ گار سمجھ کر انکسار اختیار کرتے ہیں اور تم گناہ کرتے ہو اور ا ہو اور اس پر خوش ہوتے ہو اور کار ثواب جانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَا بِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمُ (النساء : ۱۴۸) یعنی اگر تم شکر یہ ادا کرو اور ایمان لاؤ تو خدا نے تمہیں عذاب کر کے کیا لینا ہے۔ یہ تمہارے بداعمال ہی تم کو عذاب میں گراتے ہیں۔ امریکہ میں تبلیغ یہ اعتراض نا جائز ہےکہ امریکہ میں آپکی تلی نہیں پہنچی پھر وہاں عذاب کیوں آیا۔ ہماری تبلیغ بہت ہو چکی ہے۔ ابتدا میں میں نے ایک اشتہا ر سولہ ہزار چھپوا کر یورپ امریکہ میں روانہ کیا تھا اور اسی اشتہار کو پڑھ کر امریکہ سے محمد ویب نے خط و کتابت شروع کی تھی جبکہ وہ مسلمان بھی نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد ڈوئی کے متعلق پیشگوئی کے اشتہارات امریکہ میں کثرت سے تقسیم ہوئے اور امریکہ کی بہت سی اخباروں میں ہماری تصویر اور ہمارے حالات چھپے جس کو لاکھوں آدمیوں نے پڑھا اور ان کے درمیان اس سلسلہ کی تبلیغ ہو چکی ہے۔ ه سے عذاب کے متعلق سنت الہی علاوہ ازیں یہ بی یا رکھنا چاہیے کہ قدیم س سنت اللہ اس طور پر جاری ہے کہ جب عذاب الہی آتا ہے تو بدوں کے ساتھ جو نیک ملے جلے ہوتے ہیں ان میں سے بھی بعض کو لپیٹتا ہے پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال