ملفوظات (جلد 9) — Page 126
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۶ جلد نهم ایسے وقت میں حضرت عیسی خدا تعالیٰ کو یہ کہیں گے کہ میں جب تک دنیا میں تھا تب تو ان کو وحدانیت کا وعظ کرتا تھا۔ بعد کی خبر نہیں انہیں کیا ہو گیا ۔ قطع نظر اس بات کے کہ وہ اس وقت زمین میں مدفون ہیں یا کہیں آسمان پر بیٹھے ہوئے۔ اس جگہ یہ امر سب سے زیادہ قابل غور ہے کہ اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے اور چالیس سال تک رہیں گے اور عیسائیوں کو انہیں اور ان کی ماں کو خدا بنانے کے سبب خوب سزا بھی دیں گے اور پھر ان کی اصلاح بھی کریں گے اور ماننے والوں کو مسلمان بنائیں گے تو پھر قیامت کے دن ان کا جواب یہ کیوں ہونا چاہیے کہ مجھے تو کچھ خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا اور کیا نہ ہوا بلکہ انہیں تو یہ جواب دینا چاہیے کہ اے باری تعالیٰ ! میں نے تو ان کے ایسے عقیدے کے سبب ان کو خوب سزائیں دی ہیں اور ان کی صلیب کو توڑا ہے اور چالیس سال تک ان کی خوب خبر لی ہے۔ سو دیکھنا چاہیے کہ اگر مسیح دوبارہ دنیا میں آوے گا تو کیا اس کا یہ جواب جو قرآن شریف میں درج ہے سچا ہو گا ؟ اور اگر ان ملانوں کی بات درست مان لی جاوے تو روز قیامت حضرت عیسیٰ کو ایسا جواب دینے سے کیا انعام ملے گا؟ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ ایسی باتیں بنا کر وہ ایک خدا کے نبی کو نَعُوذُ بِاللہ جھوٹ بولنے والا قرار دے رہے ہیں اور پھر جھوٹ بھی قیامت کے دن اور پھر وہ بھی خدا کے دربار میں نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ ۔ ذکر تھا کہ باوجود اس قدر و با اور تکالیف کے خشیت الہی ایمان سے پیدا ہوئی ہے لوگوں میں شوخی بڑھی ہوئی ہے اور کچھ پروا نہیں کرتے ۔ فرمایا۔ خدا تعالیٰ پر پورا ایمان ہو تو انسان کے دل میں خوف اور خشیت بھی ہوتی ہے۔ جیسے ایمان کم ہوتا جاتا ہے ویسے ہی خشیت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ دنیا میں عذاب الہی کا باعث شوخی اور تکذیب سے فرمایا۔ میرا مذہب سچائی کے کے ساتھ اس بات پر قائم ہے کہ جس قدر لوگ نوح اور لوط اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر پیغمبروں کے زمانہ میں ہلاک ہوئے