ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 97

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۷ جلد نهم بتلائی گئی ہے۔ اس جگہ ہفتہ سے مراد سات ہزار سال ہیں۔ ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے ۔ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ( الحج : ۴۸) تیرے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔ فرمایا ۔ آخر ایک دن اس دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے اور سب فنا دنیا کی عمراور اس کا انجام ہو جائیں گے اور اس فن کاوقت دنیا کی عمر کے مطابق ساتویں ہزار سال کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ یہ گنتی ہم حضرت آدم سے کرتے ہیں مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ اس سے پہلے انسان نہ تھا یا دنیا نہ تھی بلکہ ایک خاص مورث اعلیٰ سے اس گنتی کو لیا جاتا ہے جس کا نام آدم تھا۔ جیسا کہ اول میں وہ آدم تھا ایسا ہی آخر میں ایک آدم ہے ۔ حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس دنیا کی عمر کے روز میں گو یا عصر کا وقت تھا۔ جبکہ وہ عصر کا وقت تھا تو خود اندازہ ہو سکتا ہے کہ اب کتنا وقت باقی ہوگا۔ انجیل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اب دنیا کی عمر تھوڑی باقی ہے۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ اس قسم کے الفاظ جیسا کہ قیامت فناوغیرہ ہیں بعض جگہ کسی خاص قرن اور خاص قوم کے متعلق آتے ہیں ۔ فرمایا۔ یہ درست ہے اور خدا تعالیٰ قدیم سے خالق چلا آتا ہے۔ لیکن اس کی وحدت اس بات کو بھی چاہتی ہے کہ کسی وقت سب کو فنا کر دے ۔ كُل مَنْ عَلَيْهَا فَإِنِ (الرحمن : ۲۷) سب جو اس پر ہیں فنا ہو جانے والے ہیں۔ خواہ کوئی وقت ہو ۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ وقت کب آئے گا؟ مگر ایسا وقت ضرور آنے والا ہے ۔ یہ اس کے آگے ایک کرشمہ قدرت ہے ۔ وہ چاہے پھر خلق جدید کر سکتا ہے۔ تمام آسمانی کتابوں سے ظاہر ہے کہ ایسا وقت ضرور آنے والا ہے۔ خدا کی قدرت کا خیال کیا جاوے تو یہ بات مستبعد اور قابلِ تجویز نہیں رہی ۔ لے زلزلہ کا ایک دھکا لگتا ہے تو شہروں کے شہر ا نقل مطابق اصل ۔ (مرتب)