ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 98

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۸ جلد نهم ویران ہو جاتے ہیں۔ اس سے خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ جب امن کا زمانہ ہوتا ہے تو لوگوں کو منطق یاد آتی ہے اور باتیں بناتے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ ایک ہاتھ دکھاتا ہے تو تمام فلسفہ بھول جاتا ہے۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ذکر کرتے ہیں کہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ ء والے زلزلہ میں ان کے کالج کا ایک ہندولڑ کا دہر یہ بے ساختہ رام رام بول اٹھا۔ جب زلزلہ تھم گیا تو پھر کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی ۔ غرض ایسے لوگ درست نہیں ہوتے جب تک کہ اللہ تعالی عجوبہ قدرت نہ دکھائے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور جب تک کہ ایسا نہ ہو تو حید قائم نہیں ہوتی ۔ ذکر آیا کہ بعض مخالف کہتے ہیں کہ طاعون کوئی عذاب الہی کیا ہر طاعونی موت شہادت ہے کہ نہیں بلکہ یہ تو ایک شہادت ہے۔ فرمایا۔ شہادت تو مومن کے واسطے ہوتی ہے جو پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس کو قربان کر چکا ہوتا ہے اس کی موت ہر حالت میں شہادت ہے۔ لیکن یہ ایک عام قانون بنانا کہ ہر ایک شخص جو طاعون سے مرتا ہے وہ شہید ہے تو پھر کیا چوہڑے، چمار، ہندو، آریہ، عیسائی، دہریہ، بت پرست جو ہزار با طاعون سے مر رہے ہیں وہ سب درجہ شہادت کو حاصل کر رہے ہیں؟ سید عبدالحی عرب نے مولوی ثناء اللہ کو کہا تھا کہ امرتسر کا رسل بابا طاعون کے عذاب سے ہلاک ہوا ہے تو ثناء اللہ نے کہا کہ وہ شہادت کی موت مرا ہے تو عرب صاحب نے کہا پھر خوب ہے میں دعا کرتا ہوں کہ خدا آپ کو بھی اس قسم کی شہادت کی موت دے۔ غرض شہادت نفس طاعونی موت میں شامل نہیں ہے بلکہ شہادت کا درجہ تو ان مومنوں کے واسطے ہے جو اپنی زندگی میں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر چکے ہیں۔ طاعونی عذاب حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بھی ان کے مخالفوں پر پڑا تھا اور پھر حضرت عیسیٰ کے بعد بھی یہ عذاب ان کے مخالفوں پر وارد ہوا تھا اور اب بھی خدا تعالیٰ نے بطور نشان کے یہ عذاب نازل فرمایا ہے۔