ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vi of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page vi

۲۔ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ علیٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الاحقاف : ۳۴) ہے اس واسطے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جھوٹھ بولے۔ ایسا اعتقاد بے ادبی میں داخل ہے۔ ہر ایک امر جو خدا تعالیٰ کے وعدہ اس کی ذات جلال اور صفات کے برخلاف ہے وہ ( ملفوظات جلد ہفتم صفحہ ۲۲۶) اس کی طرف منسوب کرنا بڑا گناہ ہے ۔“ 66 اللہ تعالیٰ کی ساری چیزوں میں ایک حُسن ہے ۔“ ( ملفوظات جلد ہفتم صفحہ ۳۳۲) اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے۔ ایسا ہی نکتہ گیر ہے۔ بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ تھوڑی سی بات ہے مگر وہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جاتی ہے ۔“ 66 ( ملفوظات جلد هشتم صفحه ۲۴۳) دعویٰ وہ اپنے مریدان با صفا کے مجمع میں اپنے دعوئی کا ان پر شوکت الفاظ میں ذکر کرتا ہے:۔ دو میں تمہیں دعوی سے کہتا ہوں کہ مفتری نہیں ہوں ۔ کا ذب نہیں ہوں ۔ بلکہ وہی ہوں جس کا وعدہ نبیوں کی زبانی ہوتا چلا آیا ہے۔ جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا ہے۔ وہی مسیح موعود ہوں جو چودھویں صدی میں آنے والا تھا اور جو مہدی بھی ہے۔ مجھے وہی قبول کرتا ہے جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے دیکھنے والی آنکھ عطا کرتا ہے ۔“ اور فرماتے ہیں۔ دو 66 ( ملفوظات جلد ہفتم صفحه ۳۴۹، ۳۵۰) میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں ۔ اور یہ بھی پکی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسی کے مرنے میں ہے۔“ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۹۵) حضرت عیسی آسمان سے نازل نہیں ہوں گے اپنے مخالفوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں :۔ دو د میں کہتا ہوں کہ تم اور تمہارے سب معاون مل کر دعائیں کرو کہ مسیح آسمان سے اتر آوے پھر دیکھ لو کہ وہ اترتا ہے یا نہیں؟ میں یقیناً کہتا ہوں کہ اگر تم ساری عمر ٹکریں مارتے رہو اور ایسی دعائیں کرتے کرتے تمہارے ناک بھی رگڑے جاویں تب بھی وہ آسمان سے