ملفوظات (جلد 8) — Page 20
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰ جلد هشتم انسان کے ہزار حملہ سے بڑھ کر ہے اور وہ ایسا ہے کہ اس سے دین کا بول بالا ہو جائے گا۔ حضرت عیسی کو زندہ ماننے کا نتیجہ عیسائیوں نے انیس سو سال سے شور مچا رکھا ہے کہ ماننے کا عیلی خدا ہے اور ان کا دین اب تک بڑھتا چلا گیا اور مسلمان ان کو اور بھی مدد دے رہے ہیں۔ عیسائیوں کے ہاتھ میں بڑا حربہ یہی ہے کہ مسیح زندہ ہے اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گئے ۔ لاہور میں لارڈ بشپ نے ایک بھاری مجمع میں یہی بات پیش کی ۔ کوئی مسلمان اس کا جواب نہ دے سکا مگر ہماری جماعت میں سے مفتی محمد صادق صاحب جو یہ موجود ہیں اٹھے اور انہوں نے قرآن شریف ، حدیث، تاریخ ، انجیل وغیرہ سے ثابت کیا کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔ کیونکہ آپ سے فیض حاصل کر کے کرامت اور خوارق دکھانے والے ہمیشہ موجود رہے تب اس کا جواب وہ کچھ نہ دے سکا۔ اب خیال کرو کہ عیسیٰ کو زندہ ماننے کا کیا نتیجہ ہے اور دوسرے انبیاء کی مانند وفات یافتہ ماننے کا کیا نتیجہ ہے۔ ذرا چار دن فوت شدہ مان کر اس کا نتیجہ بھی تو دیکھ لیں ۔ میں نے ایک دفعہ لد یا نہ میں عیسائیوں کو اشتہار دیا تھا کہ تمہارا ہمارا بہت اختلاف نہیں ۔ تھوڑی سی بات ہے یہ کہ تم مان لو کہ عیسیٰ فوت ہو گئے اور آسمان پر نہیں گئے ۔ تمہارا اس میں کیا حرج ہے؟ اس پر وہ بہت جھنجھلائے اور کہنے لگے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ عیسی مر گیا اور آسمان پر نہیں گیا تو آج دنیا میں ایک بھی عیسائی نہیں رہتا۔ دیکھو! خدا خدا علیم علیم و و حکیم حکیم ہے۔ اس نے ایسا پہلو اختیار کیا ہے جس سے دشمن تباہ ہو جائے ۔ مسلمان اس معاملہ میں کیوں اڑتے ہیں ۔ کیا عیسی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے افضل تھا ؟ اگر میرے ساتھ خصومت ہے تو اس میں حد سے نہ بڑھو اور وہ کام نہ کر وجو دین اسلام کو نقصان پہنچائے ۔ خدا ناقص پہلو اختیار نہیں کرتا اور بجز اس پہلو کے تم کسر صلیب نہیں کر سکتے ۔ اگر تم نے جنگوں سے فتح پانی ہوتی اور تمہارے لیے لڑائیاں کرنا مقدر تھا تو اس زمانہ کا جہاد خاتم کو ہتھیار دیتا۔ توپ وتفنگ کے کام میں تم کو سب سے بڑھ کر چالاکی اور ہوشیاری دی جاتی ۔ مگر خدا کا فعل ظاہر کر رہا ہے کہ تم کو یہ طاقتیں نہیں دی گئیں ۔ بلکہ سلطان روم کو