ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 21

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱ جلد هشتم بھی ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جرمن یا انگلستان وغیرہ ممالک سے بنواتا ہے اور آلات حرب عیسائیوں سے خرید کرتا ہے۔ چونکہ اس زمانہ کے واسطے یہ مقدر نہ تھا کہ مسلمان جنگ کریں اس واسطے خدا نے ایک اور راہ اختیار کی ۔ ہاں صلاح الدین وغیرہ بادشاہوں کے وقت ان باتوں کی ضرورت تھی۔ تب خدا نے مسلمانوں کی مدد کی اور کفار پر ان کو فتح دی ۔ مگر اب تو مذہب کے واسطے کوئی شخص جنگ نہیں کرتا۔ اب تو لاکھ لاکھ پر چہ اسلام کے برخلاف نکلتا ہے۔ جیسا ہتھیار مخالف کا ہے ویسا ہی ہتھیار ہم کو بھی طیار کرنا چاہیے۔ یہی حکم خداوندی ہے۔ اب اگر کوئی خونی مہدی آجائے اور لوگوں کے سر کاٹنے لگے تو یہ بے فائدہ ہوگا۔ مارنے سے کسی کی تشفی نہیں ہو سکتی۔ سر کاٹنے سے دلوں کے شبہات دور نہیں کے ہو سکتے ۔ خدا کا مذہب جبر کا مذہب نہیں ہے۔ اسلام نے پہلے بھی کبھی پیش دستی نہیں کی ۔ ج ی ۔ جب بہت ظلم صحابہ پر ہوا تو دشمنوں کو دفع کرنے کے واسطے جہاد کیا گیا تھا۔ خدا کی حکمت کے مطابق کسی کی دانائی نہیں۔ ہر ایک شخص کو چاہیے کہ اس معاملہ میں دعا کرے اور دیکھے کہ اس وقت اسلام کی تائید کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ جسم پر غالب آنا کوئی شے نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ دلوں کو فتح کیا جائے ۔ میں نے کوئی بات قال اللہ اور قال الرسول اسلام کی فتح وفات مسیح کے عقیدہ میں ہے کے بیان میں کیا ایران و مریوان کے برخلاف نہیں اور حدیث میں جسم عنصری کا لفظ آیا ہوتا تو اس کا منکر کافر اور ملعون ہوتا مگر اصل حقیقت خدا نے بذریعہ الہام کے مجھ فراد پر ظاہر کر دی اور قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اس کی تائید میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات صحابہ کے واسطے ایک بڑا صدمہ تھا ۔ ۶۲ یا ۶۳ سال کوئی بڑی عمر نہیں ۔ صحابہ کو اگر یہ کہا جاتا کہ عیسی تو زندہ ہے مگر ہمارے نبی کریم فوت ہو گئے تو ان کے واسطے ایک پشت شکن صدمہ ہوتا ۔ اسی واسطے حضرت ابو بکر نے سب کو اکٹھا کر کے وعظ کیا اور ان کو سمجھایا کہ سب نبی مر گئے کوئی بھی زندہ نہیں ۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے۔ صحابہ ایک عشق اور محبت کی حالت رکھتے تھے۔ وفات مسیح کے بغیر دوسرا پہلو وہ ہر گزمان نہ سکتے تھے۔ اسلام کبھی ایسا عقیدہ پیش نہیں کر سکتا جو آنحضرت افضل الرسل کی ہتک کرنے والا ہو۔ کوئی ہمیں برا یا بھلا کہے ہم تو اپنا کام کرتے چلے