ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 19

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹ جلد هشتم چند مولوی اور طلباء آئے۔ حضرت کی خدمت میں عرض مسیح موعود کو ماننا کیوں ضروری ہے کیا کہ ہم نمازمیں پڑے کیا کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں۔ قرآن اور رسول کو مانتے ہیں ۔ آپ کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ انسان جو کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتا ہے وہ سب موجب معصیت ہو جاتا ہے۔ ایک ادنی سپاہی سرکار کی طرف سے کوئی پروانہ لے کر آتا ہے تو اس کی بات نہ ماننے والا مجرم قرار دیا جاتا ہے اور سزا پاتا ہے۔ مجازی حکام کا یہ حال ہے تو احکم الحاکمین کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی اور بے قدری کرنا کس قدر عدول حکمی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ خدا تعالیٰ غیور ہے۔ اس نے مصلحت کے مطابق عین ضرورت کے وقت بگڑی ہوئی صدی کے سر پر ایک آدمی بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائے۔ اس کے تمام مصالح کو پاؤں کے نیچے کچلنا ایک بڑا گناہ ہے۔ کیا یہودی لوگ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے۔ بمبئی کے ایک یہودی نے ہم کو لکھا کہ ہمارا خدا وہی ہے جو مسلمانوں کا خدا ہے اور قرآن شریف میں جو صفات بیان ہیں وہی صفات ہم بھی مانتے ہیں تیرہ سو برس سے اب تک ان یہودیوں کا وہی عقیدہ چلا آتا ہے مگر باوجود اس عقیدہ کے ان کو سور اور بندر کہا گیا۔ صرف اس واسطے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانا۔ انسان کی عقل خدا کی مصلحت سے نہیں مل سکتی ۔ آدمی کیا چیز ہے جو مصلحت الہی سے بڑھ کر سمجھ رکھنے کا دعویٰ کرے۔ خدا کی مصلحت اس وقت بدیہی اور اجلی ہے۔ اسلام میں سے پہلے ایک شخص بھی مرتد ہو جاتا تھا تو ایک شور بپا ہو جاتا تھا۔ اب اسلام کو ایسا پاؤں کے نیچے کچلا گیا ہے کہ ایک لاکھ مرتد موجود ہے۔ اسلام جیسے مقدس مطہر مذہب پر اس قدر حملے کئے گئے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں کتابیں آنحضرت کو گالیاں سے بھری ہوئی شائع کی جاتی ہیں۔ بعض رسالے کئی کروڑ تک چھپتے ہیں۔ اسلام کے برخلاف جو کچھ شائع ہوتا ہے اگر سب کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک بڑا پہاڑ بنتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ گویا ان میں جان ہی نہیں اور سب کے سب مر ہی گئے ہیں ۔ اس وقت اگر خدا بھی خاموش رہے تو پھر کیا حال ہوگا ۔ خدا کا ایک حملہ