ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 256

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۶ جلد هشتم سچے الہام کی خصوصیات فرایا ۔ الہام الہ کی عبرت و منفی ہتی ہے اوراس میں ایک شوکت ہوتی ہے اور اس میں سے کلام الہی کی ایک خوشبو آتی ہے۔ چود ہری اللہ داد صاحب مرحوم کا ذکر تھا۔ چود ہری اللہ داد مرحوم فرمایا کہ قبرتان کے تعلق جو الہام الہی تھا کہ انزل فيها رحمة اس کے مستحق چود ہری صاحب موصوف بھی ہوئے۔ رَحْمَةٌ سچی توحید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے ہی مل سکتی ہے فرمایا۔ توحید آسمان سے نازل ہوتی ہے جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ۔ ( جیسا کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خاں وغیرہ جو کہتے ہیں کہ آنحضرت پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ یہود و نصاری خود بخود نجات پا جائیں گے ) ان کو کبھی تو حید مل ہی نہیں سکتی ۔ سارا قرآن شریف اس سے بھرا ہوا ہے۔ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کے اندر سے ایمان کی کیفیت کو سلب کر لیتا ہے۔ مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ نبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ فرمایا کہ تمام اکابر اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ اس اُمتِ مرحومہ کے درمیان سلسلہ مکالمات الہیہ کا ہمیشہ جاری ہے اس معنے سے ہم نبی ہیں۔ ورنہ ہم اپنے آپ کو امتی کیوں کہتے ؟ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو فیضان کسی کو پہنچ سکتا ہے وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پہنچ سکتا ہے۔ اس کے سوائے اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ ایک اصطلاح کے جدید معنے اپنے پاس سے بنالینا درست نہیں ہے۔ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ آنے والا مسیح نبی بھی ہوگا اور امتی بھی ہوگا ۔ امتی تو وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے فیض حاصل کر کے تمام کمال حاصل کرے ۔ لیکن جو شخص پہلے ہی سے نبوت کا درجہ پا چکا ہے وہ امتی کس طرح سے بن سکے گا ؟ وہ تو پہلے ہی سے نبی ہے۔