ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 255

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۵ جلد هشتم سے انسان دشمن کا مقابلہ کرتا ہے ۔ ہاتھ کے کاٹے جانے سے مراد یہ ہے کہ ان کے پاس مقابلہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا اور پاؤں سے انسان شکست پانے کے وقت بھاگنے کا کام لے سکتا ہے لیکن ان کے پاؤں بھی کٹے ہوئے ہیں جس سے یہ مراد ہے کہ ان کے واسطے کوئی جگہ فرار کی نہ ہوگی اور یہ جو دیکھا گیا ہے کہ ان کی کھال بھی اتری ہوئی ہے اس سے یہ مراد ہے کہ ان کے تمام پردے فاش ہو جائیں گے اور ان کے عیوب ظاہر ہو جائیں گے۔ دلیل صداقت فرمایا۔ اگر ہم افترا کرتے ہیں تو خدا خود ہمارا دشمن ہے اور ہمارے لیے بچاؤ کی کوئی صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے ہے اور مصائب اسلامی کے واسطے اللہ تعالیٰ نے خود ایک سامان بنایا ہے تو اس کا مقابلہ خدا تعالیٰ کو کس طرح پسند آ سکتا ہے۔ بڑا بد قسمت ہے جو اس کو توڑ نا چاہتا ہے۔ خدا کا جلال خدا کے رسول کے جلال سے وابستہ ہے فرمایا۔ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بے ادبی سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے واسطے ہے اور نادان نہیں جانتے کہ جب تک خدا کے نبی اور اس کے رسول کا جلال نہ ہو۔ خدا کا جلال وہ کس طرح ظاہر کر سکتے ہیں ؟ الحكم ڈاکٹر عبدالحکیم فرمایا۔ اگر کریم تو ہوتا تو ہی تیر کے کانام لیتا کونکہ علم کا کچھ حصہ ہے۔ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک ذرہ روحانیت نہیں اور نہ ظاہری فرمایا۔ صلیب بھی خطا کار ہے کہ وہ اوّل صلیب توڑی جانے کے قابل ہی ہے۔ یسوع پر غالب آئی اور اس کو مردہ سا کر دیا اور پھر اس کی اُمت پر غالب آئی اور اس کو اپنا پرستار بنایا۔ اس واسطے صلیب بھی اس قابل ہے کہ توڑی جاوے۔