ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 15

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵ جلد هشتم ما مور من اللہ اور ولی اللہ آتا ہے اور لوگ اس کے در پے ایذا اور تو ہین ہوتے ہیں تو عادت اللہ اسی طرح واقع ہے کہ بعد اس کے ایسے شہر اور ملک پر جو سرکش اور بے ادب ہوتا ہے ضرور تباہی آتی ہے۔ پنجاب میں اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ۔ وہ لوگ خدا کا خوف رکھتے ہیں اور خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کثرت سے پنجابیوں کا ہماری طرف رجوع ہو رہا ہے کہ بعض اوقات ان کو ہماری مجالس میں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملتی ۔ فرمایا۔ خواجہ باقی باللہ صاحب کی عمر بہت تھوڑی تھی ۔ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سے بھی کم عمر پائی تھی ۔ مولوی صاحب موصوف کی عمر سینتالیس سال کی تھی ۔ خواجہ باقی باللہ کی قبر پر کھڑے ہو کر بعد دعا کے فرمایا کہ ان تمام بزرگوں کی جو دہلی میں مدفون ہیں کرامت ظاہر ہے کہ ایسی سخت سرزمین نے ان کو قبول کیا۔ یہ کرامت اب تک ہم سے ظہور میں نہیں آئی ۔ ذلت کا رزق قبر پر بہت سے سائل جمع تھے۔ فرمایا۔ یہ سائلین بہت پیچھے پڑتے ہیں۔ پہلے معلوم نہ تھا۔ ورنہ ان کے واسطے کچھ پیسے ساتھ لے آتے ۔ شیخ نظام الدین کی قبر پر سائل اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں۔ یہی ان کا رزق ہو گیا ہے جو ذلت کا رزق ہے۔ رزق کی تنگی بعض لوگوں سے بہت بُرے کام کراتی ہے۔ ایک سائل لود یا نہ میں میرے پاس آیا اور ظاہر کیا کہ ایک آدمی مر گیا ہے اس کے کفن کے واسطے سامان کرتا ہوں ۔ چار آنے کی کسر باقی ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ پہلے دیکھنا چاہیے کہ وہ میت کہاں ہے؟ پھر اس کی پوری مدد کرنی چاہیے چنانچہ وہ آدمی ساتھ گیا تو ، تھوڑی دور جا کر سائل بھاگ گیا کیونکہ وہ سب جھوٹھا قصہ بنا یا ہوا تھا۔ تنگی رزق یہ بد مکر کراتی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا کہ مساجد کی اصل زینت مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی ۔ کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی