ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 16

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶ جلد هشتم اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی وہ خدا کے حکم سے گرادی گئی ۔ اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں ۔ اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔ مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقوی کے واسطے بنائی جائیں ۔ آثار قدیمہ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر آپ نے قلعہ نہیں دیکھا تو دیکھ لیں۔ ع آثار پدید است صنادید مجم را اجل میں تا خیر نہیں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا کرتھا۔ فرمایا۔ خدا نے دعا کو قبول کر کے سرط ۔ رطان سے شفا دے ا دے دی۔ مگر جب سرطان کسی کی اجل آجاتی ہے تو پھر رک نہیں سکتی اور یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ دعا سے عمر بڑھ جاتی ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ اجل کے آجانے سے پیشتر قبل از وقت جو دعا کی جاوے وہ کام آتی ہے ورنہ جان کندن کے وقت کون دعا کر سکتا ہے؟ ایسی سخت بیماری میں مولوی صاحب مرحوم کا اکیاون دن تک زندہ رہنا بھی استجابت دعا کا ہی نتیجہ تھا۔ یہ تاخیر بھی تعجب انگیز ہے۔ ہم بہت دعا کرتے تھے کہ آدمی اچھا ہے زندہ ہی رہے تب خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا تُؤْثِرُونَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا ۔ یعنی کیا اگلے عالم کے تم قائل نہیں ہو جو اس دنیا کی زندگی کے واسطے اتناز ور دیتے ہو۔ ( بعد ظهر ) جو آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں اور بھی دہلی والے آموجود ہوئے ۔ ایک شخص عبد الحق نام جو اپنے آپ کو صوفی ابوالخیر صاحب کے مرید بتلاتے تھے چند طالب علموں کے ساتھ آئے ۔ حضرت مسیح نے پوچھا کہ کیا تم سب دہلی کے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ۔