ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 14

ملفوظات حضرت مسیح موعود پڑھی اور عاجز راقم کو حکم دیا کہ اس کو نقل کر لو ۔ اے ۱۴ جلد هشتم فرمایا۔ خواجہ باقی باللہ بڑے مشاہ فرمایا۔ خواجہ باقی باللہ بڑے مشائخ میں سے تھے۔ شیخ احمد سرہندی حضرت خواجہ باقی باللہ کے پیر تھے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ان بزرگوں کی ایک کرامت ۔ تو ہم نے بھی دیکھ لی ہے اور وہ یہ ہے کہ دہلی جیسے شہر کو انہوں نے قائل کیا۔ اور یہ وہ شہر ہے جو ہم کو مردود اور مخذول اور کافر کہتا ہے۔ سیٹھ صاحب سے کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ سے کی ہوکر کہ سرزمین دہلی یہ سرزمین بمبئی سے زیادہ سخت ہے اور اس کے لیے آسانی سرزنش کا حصہ ہمیشہ رہا ہے۔ صرف انگریزوں کے ساتھ ہی بغاوت نہیں کی بلکہ سلاطین اسلامیہ کے ساتھ بھی شورہ پشتی کرتے رہے ہیں۔ اس جگہ کے اکابر اور مشائخ کے اخلاق کا بھی اس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے شہر میں کس طرح بسر کی ۔ یہ بزرگ بہت ہی مسلوب الغضب تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مٹی کی طرح کر دیا تھا۔ مرزا جان جاناں کو ان لوگوں نے قتل کر دیا۔ اور بڑے دھو کے سے کیا۔ یعنی ایک آدمی نذر لے کر آیا اور دھوکہ سے طپنچہ مار دیا۔ شاہ ولی اللہ کے لیے بھی دہلی والوں نے ایسے ہی قتل کے ارادے کئے تھے مگر ان کو خدا نے بچالیا۔ میرے ساتھ جب مباحثہ ہوا تھا تو آٹھ نو ہزار آدمی کا مجمع تھا اور میں نے سنا ہے کہ بعض کے ہاتھ میں چاقو اور بعض کے ہاتھ میں پتھر بھی تھے۔ یہاں تک کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اندیشہ ہوا کہ کہیں غدر نہ ہو جاوے اس واسطے اس نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر مجمع سے باہر کیا اور گھر پہنچایا۔ ایسے وقت میں یہ لوگ کو تاہ اندیش، پست خیال اور سفلہ ہونا ظاہر کرتے ہیں۔ سعادت ہے اس کے بالمقابل پنجاب میں بڑی سعادت ہے۔ ہزار ہا پنجاب میں بڑی سعادت ہے لوگ سلسلہ حقہ میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پنجاب کی زمین بہت نرم ہے اور اس میں خدا پرستی ہے۔ طعن و تشنیع کو برداشت کرتے ہیں ۔ مگر یہ لوگ بہت سخت ہیں جس سے اندیشہ ایسے عذاب الہی کا ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے کیونکہ جب کوئی لے چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ نے وہ نظم نقل کر لی اور بدر میں اسے شائع کر دیا۔ (مرتب) ے سیٹھ عبد الرحمن صاحب مراد ہیں ۔ (مرتب)