ملفوظات (جلد 8) — Page 143
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۳ جلد هشتم اللہ وہ ہوں جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں ۔ اور علت مادی ذلِكَ الْكِتَبُ ہے۔ یعنی یہ کتاب اس خدا کی طرف سے آئی ہے جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ اور علت صوری لا رَيْبَ فِيهِ ہے یعنی اس کتاب کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں ۔ جو بات ہے مستحکم اور جو دعویٰ ہے وہ مدلل اور روشن ۔ اور علت غائی اس کتاب کی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے۔ یعنی اس کتاب کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے کہ متقیوں کو ہدایت کرتی ہے۔ متقی کی صفات یہ چاروں حالتیں بیان کرنے کے بعد پھر اللہ تعالی نے متقیوں کے عام صفات بتائے ہیں کہ وہ متقی کون ہوتے ہیں جو ہدایت پاتے ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ - وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۔ یعنی وہ متقی ہوتے ہیں جو خدا پر جو ہنوز پردہ غیب میں ہوتا ہے ایمان لاتے ہیں اور نماز کو کھڑا کرتے ہیں ۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو تجھ پر نازل کی ہے اور جو کچھ تجھ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہ صفات متقی کے بیان فرمائے ۔ اب یہاں بالطبع ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کی غرض وغایت تو یہ بتائی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ اور پھر متقیوں کے صفات بھی وہ بیان کئے جو سب کے سب ایک با خدا انسان میں ہوتے ہیں ۔ یعنی خدا پر ایمان لاتا ہو۔ نماز پڑھتا ہو۔ صدقہ دیتا ہو۔ کتاب اللہ کو مانتا ہو۔ قیامت پر یقین رکھتا ہو۔ پھر جو شخص پہلے ہی سے ان صفات سے متصف ہے اور وہ متقی کہلاتا ہے اور ان امور کا پابند ہے تو پھر وہ ہدایت کیا ہوئی جو اس کتاب کے ذریعہ اس نے حاصل کی؟ اس میں وہ امرز ا ئد کیا ہے جس کے لیے یہ کتاب نازل ہوئی ہے؟ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور امر ہے جو اس ہدایت میں رکھا گیا ہے کیونکہ یہ امور جو بطور صفات متقین بیان فرمائے ہیں یہ تو اس ہدایت کے لیے جو اس کتاب کا اصل مقصد اور غرض ہے بطور شرائط ہیں۔ ورنہ وہ ہدایت اور چیز ہے اور وہ ایک اعلیٰ امر ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے اور جس کو میں بیان کرتا ہوں ۔