ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 144

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد هشتم پس یا درکھو کہ متقی کے صفات میں سے پہلی صفت یہ بیان کی ایمان بالغیب سے اگلا درجہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یعنی غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ مومن کی ایک ابتدائی حالت کا اظہار ہے کہ جن چیزوں کو اس نے نہیں دیکھا ان کو مان لیا ہے۔ غیب اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ اور اس غیب میں بہشت ، دوزخ ، حشر اجساد اور وہ تمام امور جو ابھی تک پردہ غیب میں ہیں، شامل ہیں ۔ اب ابتدائی حالت میں تو مومن ان پر ایمان لاتا ہے لیکن ہدایت یہ ہے کہ اس حالت پر اسے ایک انعام عطا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا علم غیب سے انتقال کر کے شہود کی طرف آجاتا ہے اور اس پر پھر ایسا زمانہ آجاتا ہے کہ جن باتوں پر وہ پہلے غائب کے طور ایمان لاتا تھا وہ ان کا عارف ہو جاتا ہے اور وہ امور جو ابھی تک مخفی تھے اس کے سامنے آجاتے ہیں اور حالت شہود میں انہیں دیکھتا ہے۔ پھر وہ خدا کو غیب نہیں مانتا بلکہ اسے دیکھتا ہے اور اس کی تجلی سامنے رہتی ہے۔ غرض اس غیب کے بعد شہود کا درجہ اسے عطا کیا جاتا ہے۔ جیسے ایمان کے بعد عرفان کا مرتبہ ملتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کو اسی عالم میں دیکھ لیتا ہے۔ اور اگر اس کو یہ مرتبہ عطا نہ ہوتا تو پھر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے مصداق کو کوئی ہدایت اور انعام عطا نہ ہوتا۔ اس کے لیے قرآن شریف گویا موجب ہدایت نہ ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا اور اس کے لیے ہدایت یہی ہے کہ اس کے ایمان کو حالت غیب سے منتقل کر کے حالت شہود میں لے آتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اعلی (بنی اسرآءيل: ۷۳) یعنی جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ دوسرے عالم میں بھی اندھا اٹھایا جاوے گا۔ اس نابینائی سے یہی مراد ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تجلی اور ان امور کو جو حالت غیب میں ہیں اسی عالم میں مشاہدہ نہ کرے اور یہ نابینائی کا کچھ حصہ غیب والے میں پایا جاتا نا ہے ہے لیکن هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے موافق جو شخص ہدایت پالیتا ہے اس کی وہ نابینائی دور ہو جاتی ہے اور وہ اس حالت سے ترقی کر جاتا ہے اور وہ ترقی اس کلام کے ذریعہ سے یہ ہے کہ ایمان بالغیب کے درجہ سے شہود کے درجہ پر پہنچ جاوے گا اور اس کے لیے یہی ہدایت ہے۔ اقامت صلوۃ سے اگلا درجہ متقی کی دوسری صفت یہ ہے یقیمون الصلوق این وہ نماز کو يُقِيمُونَ کھڑی کرتے ہیں۔ متقی سے جیسے ہو سکتا ہے نماز کھڑی کرتا