ملفوظات (جلد 7) — Page 91
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۱ جلد ہفتم ہیں تا کہ ان نمونوں کو دیکھ کر شجر ایمان ویقین ہمیشہ تر و تازہ رہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الثريت : ۵۷) کے یہ معنے ہیں کہ جن و انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ معرفت الہی حاصل کریں ۔ اب جب کہ آواز ہی خدا کی طرف سے نہ آئی تو پھر معرفت کیا ہوئی اور انسانی خلقت سے جو اصل مطلب تھا وہ پورا نہ ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بھی بڑی علت غائی یہی تھی کہ معرفت تامہ حاصل ہو۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ مکالمہ اور مخاطبہ الہی کا ایسا مسئلہ ہے کہ کل اکابروں کا اس سے اتفاق ہے۔ سید عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ذرا فتوح الغیب کو دیکھو پھر اس حدیث کے کیا معنے ہوئے کہ میں اپنے بندے کی زبان ہو جاتا ہوں؟ بعض لوگ یہ اعتراض پیش کرتے ہیں الہام رحمانی اورشیطانی میں تمیز کی ضرورت کے ایلام ایلانی بھی ہوتا ہے اور کہ رحمانی بھی مگر ہم کہتے ہیں کہ آخر کوئی تمیز بھی ہے یا نہیں ۔ اگر کلام رحمانی اور شیطانی میں کوئی تمیز نہ رکھیں گے تو پھر وہ بتلاویں کہ رحمان کی عزت کیا ہوئی ۔ کیا ان کے نزدیک رحمان اور شیطان میں کوئی فرق ہے یا کہ مساوات ہے؟ اگر فرق ہے تو دونوں کے کلام میں کیوں فرق تسلیم نہیں کرتے؟ حالانکہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مختلف مدارج کے لوگوں کے کلام میں ایک فرق بین ہوتا ہے تو کیا خالق کی کلام مخلوق کی کلام سے بھی اس درجہ گری ہوئی ہوگی کہ اس میں کوئی تمیز نہ ہوگی ۔ یہی وجہ ہے نہ ہمارا اور کسی اور اکابردین کا یہ مذہب ہوا ہے کہ رحمانی اور شیطانی الہام ایک ہی صورت رکھتے ہیں۔ اگر اس امت میں مامورین و مرسلین نہ آویں تو بتلاؤ کہ اس میں اور دوسری امتوں میں فرق کیا ہوا ؟ جس طریق سے ہم مانتے ہیں اس طریق سے عظمت قرآن شریف کی اور خاتم الانبیاء کی ظاہر ہوتی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل درآمد کے لئے تو نبی اور رسول مبعوث ہوں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ایسی ہوئی کہ کوئی نبی اور رسول اس پر عمل درآمد کے لئے نہ آوے۔ یاد رکھو کہ جس دین میں روحانیت نہ رہے تو وہ قابل جلانے کے ہوتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے باغ میں ایک درخت ہوا اور وہ بالکل خشک ہو گیا ہو نہ کوئی پھل دیتا ہے نہ اس کا سایہ ہے نہ