ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 92

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۲ جلد ہفتم کوئی پھول ہی نکلتا ہے تو آخر با غبان سوائے اس کے اور کیا کرے گا کہ اسے کاٹ کر جلا دے کیونکہ اب تو وہ حطب ہے نہ کہ شجر ۔ اور ہمیں ان لوگوں کی باتوں کی پرواہی کیا ہے جو کاروبار آسمانی ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ فقط جاد و والا مکان ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک مکان میں جانا چاہتا ہوں مگر لوگ کہتے ہیں کہ اس میں جنات ہوتے ہیں اور جادو کا اثر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مومن کے پاس جن اور شیطان نہیں آتا۔ ایک شخص نے بیان کیا کہ ایک احمدی بھائی سرحد پر مارے گئے ہیں وہ فوج نہ شہادت نہ جرم میں نوکر تھے اور سرحدی لوگ جب ان کے افسر کو وقت کرنے آئے تو وہ پہرہ دے ں لئے ان لوگوں نے اوّل اسے قتل کیا۔ کیا وہ شہید ہے یا کہ نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ شہادت تو اس موت کا نام ہے جو کہ دین کے لئے ہو باقی اغراض نفسانی کے لئے جو انسان جد و جہد کرتا ہے اور اس میں کامیاب اور نا کام بھی ہوتا ہے بعض وقت جان بھی جاتی ہے اس لئے اس کو نہ ہم شہادت کہتے ہیں اور نہ کوئی گناہ قرار دیتے ہیں ۔ لے ۱۳ مارچ ۱۹۰۵ء ( قبل ظهر ) حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے مولوی محمد ابراہیم صاحب کو بعض نکات معرفت حضرت اقدس حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور پیش کیا۔ مولوی صاحب موصوف نے حضرت مسیح موعود سے چند استفسار کئے ۔ آپ نے ان کے جواب میں جو کچھ فرمایا وہ درج ذیل ہے۔ سائل ۔ اطمینان قلب کیونکر حاصل ہو سکتا ہے؟ حضرت اقدس ۔ قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۲