ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 90

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۰ جلد ہفتم بند نہیں ہوتا۔ ہاں ایسی وحی جو بجر قرآن کے کوئی اور نئی شریعت تجویز کرتی ہے وہ بالکل بند ہے اور جو کوئی اس کا مدعی ہو وہ بلا شک و شبہ کافر ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ وہ نبوت ختم ہو گئی لیکن مکالمات و مخاطبات ایسے جس سے ایمان کو ترقی ہوتی ہے وہ جاری ہیں اور رہیں گے کیونکہ اگر آواز کا سلسلہ ہی بند ہو جاوے تو پھر یقین کامل کا طریق کوئی نہیں رہتا۔ ایک بند مکان میں اگر آواز میں مارتے رہو اور کوئی جواب نہ آوے تو آخر یہی کہو گے کہ اس میں کوئی نہیں ۔ پس اسی طرح اگر خدا سے کوئی آواز نہ آوے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ ہے بھی ۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ الہام اور وحی کا بند ہو گیا ہوا ہے تو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ٧،٦ ) کو نماز میں تکرار کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ منعم علیہ گروہ میں تو انبیاء بھی ہیں اور دوسرے صلحاء وغیرہ جن پر ا خدا نے انعام وحی کیا تھا اور وہ تو اب ہونی نہیں تو پھر اس دعا کا کیا فائدہ؟ یہ تو ظاہر ہے کہ انبیاء اور رسل پر انعام الہی مال و دولت کے رنگ میں نہیں ہوتے اور نہ وہ ان باتوں کے لئے دنیا میں آتے ہیں بلکہ اس کے برعکس فقر و فاقہ کو پسند کرتے ہیں تو آخر پھر ماننا پڑے گا کہ صرف مکالمات اور مخاطبات الہی کا انعام ہی ان پر تھا اور قرآن شریف سے بھی یہی ظاہر ہے تو اب اس کا سلسلہ منقطع کرنا کس قدر کفر کی بات ہے ۔ علاوہ اس کے ہمیں باوجود اس ایمان کے کہ یہ امت خیر الامت ہے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں اس امت کے مردوں سے بدر جہا اچھی ٹھیریں کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں سے خدا تعالیٰ نے کلام کی اور اس کو وحی کی ۔ پھر بتلاؤ کہ جب اس امت کے رجال اسرائیلی امت کی عورتوں کی مانند بھی نہ ہوئے حالانکہ بڑھ کر ہونے چاہئیں تو اس کا نام خیر الامت کی جگہ شر الامت ہوا یا کہ نہیں ۔ اور یہ کفر ہے یا کہ نہیں ۔ ایمان کا ستون تو یقین ہے اور وہ وحی اور الہام سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر جب وحی نہ رہی اور صرف باتیں اور قصے ہی رہ گئے اور آسمانی اور روحانی امور بالکل نہ رہے تو رہا کیا۔ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان کے ہاتھ میں جب تک کسی بات کی نظیر ( نمونہ ) نہ رہے تو رفتہ رفتہ وہ اس سے منکر ہو جاتا ہے اسی لیے خدا تعالیٰ نے اسلام میں یہ انتظام کیا ہے کہ اس میں صاحب الہام و وحی ہوتے رہتے