ملفوظات (جلد 7) — Page 88
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۸ جلد ہفتم ہے کہ کیا ہم خدا کی ہستی کے قائل نہیں ہیں۔ وہ اپنے زعم میں تو سمجھتے ہیں کہ خدا کو وہ مانتے ہیں لیکن ذرا غور سے ایک قدم رکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ وہ در حقیقت قائل نہیں ہیں کیونکہ اور اشیاء کے وجود کے قائل ہونے سے جو حرکات اور افعال ان سے صادر ہوتے ہیں وہ خدا کے وجود کے قائل ہونے سے کیوں صادر نہیں ہوتے ۔ مثلاً جب کہ وہ سم الفار سے واقف ہے کہ اس کے کھانے سے آدمی مر جاتا ہے تو وہ اس کے نزدیک نہیں جاتا اور نہیں کھاتا کیونکہ اسے یقین ہے کہ میں اگر کھالوں گا تو مر جاؤں گا۔ پس اگر خدا کی ہستی پر بھی یقین ہوتا تو وہ اسے مالک، خالق اور قادر جان کر نا فرمانی کیوں کرتا؟ پس ظاہر ہے کہ بڑا ضروری مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کا ہے اور قابل قدر وہی مذہب ہو سکتا ہے جو کہ اسے نئے نئے لباس میں پیش کرتا رہے تا کہ دلوں پر اثر پڑ سکے ۔ دراصل یہ مسئلہ ام المسائل ہے اور اسلام اور غیر مذاہب میں ایک فرقان ہے۔ عیسائیوں نے بھی فرقان کا دعوی کیا ہے کہ انجیل نے ایمانداروں کی فلاں فلاں علامت قرار دی ہے مگر اب وہ کسی میں بھی پائی نہیں جاتیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایمان کا نام ونشان نہیں مگر اسلام میں فرقان کی سب علامات موجود ہیں ۔ جو براہین احمدیہ کا حصہ چھپ چکا ہے اس پر ذکر چلا۔ براہین احمد یہ عہد عتیق ہے ہے فرمایا کہ اس میں خدا کی حکمت تھی ورنہ اگر وہ چاہتا تو اسے ہم لکھتے ہی رہتے ۔ لیکن خدا نے اب اول حصہ کو منقطع کر کے بائبل کے عہد عتیق کی طرح الگ کر دیا ہے ۔ کیونکہ جو پیشگوئیاں اس میں درج ہیں وہ اب اس اثنا میں پوری ہو رہی ہیں اور جو حصہ اس کا طبع ہوگا وہ عہد جدید ہوگا جس میں سابقہ حصہ کے حوالے ہوں گے کہ خدا نے یوں فرمایا تھا اور وہ اس طرح پورا ہو کر رہا۔ براہین میں ہم نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح آسمان سے آویں سادگی سچائی کی دلیل ہے کے اس پر لوں نے اعتراض کے کر تناقض ہے وہ یہ ہیں گے۔ کہ دیکھتے کہ اسی براہین میں ہم نے تمام الہامات بھی درج کئے ہیں جن میں ہمارا نام مسیح رکھا گیا ہے اور