ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 87

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۷ جلد ہفتم صرف ۴۰ شخص بچے۔ اور ان میں سے بھی صرف ۹ کس تندرست تھے اور باقی کچھ نہ کچھ مریض ہی تھے۔ ان 9 میں ان کا چچا بھی تھا۔ ان کے دل میں آیا کہ اس قدر عبرتناک حادثہ موت کا چونکہ گاؤں میں گذرا ہے ممکن ہے کہ چچا کا دل رقیق ہوا ہو چلوا سے چل کر تبلیغ کر آویں شاید ہدایت نصیب ہو۔ باوجود اس کے کہ لوگوں نے اس طاعون زدہ گاؤں میں جانے سے روکا مگر تبلیغ حق کے جوش میں وہ چلے گئے اور جا کر اپنے چچا کو اس سلسلہ کی صداقت کی نسبت سمجھایا۔ چانے یہ جواب دیا کہ اگر یہ طاعون مرزے کی مخالفت کی وجہ سے ہے تو مجھے خوشی سے اس سے مر جانا قبول ہے بیشک مجھے طاعون ہو ۔ انجام یہ ہوا کہ وہ اور اس کا تمام بال بچہ تباہ اور ہلاک ہو گیا، مگر مخالفت پر برابر آمادہ رہا اور مرتے دم تک نہ مانا۔ ۲۱ فروری ۱۹۰۵ء ( ما بین مغرب و عشاء) فارغ نشینی اچھی نہیں حسب دستور قریب ایک گھنٹہ کے حضور نے مجلس فرمائی۔ اول رسالہ زیر تصنیف کا ذکر رہا فرمایا کہ اول بوجہ علالت طبع کے فارغ نشینی رہی ۔ اب خدا نے کچھ صحت عطا فرمائی ہے تو قلم میں بھی قوت آگئی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ صحت رکھے تو فارغ نشینی اچھی نہیں ہے۔ بندہ اگر خدمت ہی کرتا رہے تو خوب ہے۔ ہریت کو نبی کا وجود ہی جلا سکتا ہے فرمایا کہ دہرہ پن کو اگرکوئی شے چل سکی ہے تو وہ صرف انبیاء کا وجود ہے ورنہ عقلی دلائل سے وہاں کچھ نہیں بنتا۔ کیونکہ عقل کی حد سے تو پیشتر ہی گزر کر وہ دہر یہ بنتا ہے۔ پھر عقل کی پیش اس کے آگے کب چلتی ہے۔ خدا نمائی کی ضرورت فرمایا کہ آج کل خدا نمائی کی بڑی ضرورت ہے۔ دراصل اگر دیکھا جاوے تو خدا کی ہستی سے انکار ہو رہا ہے۔ بہت لوگوں کو یہ خیال البدر جلد ۴ نمبر ۷ مورخه ۵ / مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۲ و الحکم جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۷