ملفوظات (جلد 7) — Page 86
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۶ جلد ہفتم ہے۔ قسطنطنیہ میں عجیب قسم کے نام لوگوں کے ہوتے ہیں مگر وہ مہدی جس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تھا اس کے نام میں بھی محمد کا لفظ تھا۔ موجودہ زمانے کے حالات پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ۔ معجزات میں افراط و تفریط ایک گروہ تو معجزات سے قطعی مکر ہے جیسے کہ نیچری اور آریہ وغیرہ۔ اس نے تفریط کا پہلو اختیار کیا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جو کہ افراط کی طرف چلا گیا ہے جیسے کہ بعض لوگ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے معجزات بیان کیا کرتے ہیں کہ بارہ برس کی ڈوبی ہوئی کشتی نکالی اور حضرت عزرائیل کے ہاتھ سے آسمان پر جا کر قبض شدہ ارواح چھین لیں ۔ در اصل بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے معجزہ کی حقیقت کو نہیں سمجھا ہے۔ معجزہ سے مراد فرقان ہے جو حق اور باطل میں تمیز کر کے دکھا دے اور خدا کی ہستی پر شاہد ناطق ہو۔ اے ۲۰ فروری ۱۹۰۵ء (قبل از عشاء) خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہدایت حاصل نہیں ہوتی حضور علیہ السلام نے عشاء کی نماز سے کچھ پیشتر تشریف لا کر مجلس فرمائی۔ خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا تذکرہ رہا۔ بعض کفار کی حالت پر آپ نے فرمایا که جب تک خدا تعالیٰ کا فضل انسان کے شامل حال نہ ہو تب تک اسے ہدایت کی راہ نصیب نہیں ہوتی۔ بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ موت تک کفر ہی پر راضی رہتے ہیں اور کبھی ان کے دل میں یہ خیال نہیں گذرتا کہ ہم غلطی پر ہیں حتی کہ اسی میں مر جاتے ہیں۔ اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بیان فرمایا کہ چند یوم ہوئے ایک دوست بیان کرتے تھے کہ ان کے گاؤں کی آبادی چار سو باشندوں کی تھی ۔ طاعون جو پڑی تو سب کے سب ہلاک ہو گئے البدر جلد ۴ نمبر۷ مورخه ۵ / مارچ ۱۹۰۵ ء صفحه ۲ و الحکم جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۵ ء صفحه ۷