ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 85

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۵ جلد ہفتم ہم اپنی زبان سے کسی کو مفتری نہیں کہتے ۔ جبکہ وحی شیطانی بھی ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ کسی سادہ لوح کو دھوکا لگا ہو۔ اس لیے ہم فعل الہی کی سند پیش کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ پیش کی تھی اور خدا تعالیٰ نے فعل پر بہت مدار رکھا ہے۔ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ (الحاقة: ۴۶،۴۵) میں فعل ہی کا ذکر ہے۔ پس جبکہ یہ مسنون طریق ہے تو اس سے کیوں گریز ہے۔ ہم لوگوں کے سامنے ہیں اور اگر فریب سے کام کر رہے ہیں تو خدا تعالیٰ ایسے عذاب سے ہلاک کرے گا کہ لوگوں کو عبرت ہو جاوے گی اور اگر یہ خدا کی طرف سے ہے اور ضرور خدا کی طرف سے ہے تو پھر دوسرے لوگ ہلاک ہو جاویں گے ۔ اے ۱۹ رفروری ۱۹۰۵ء (بعد نماز مغرب) آج کا دن اپنی شان میں ایک مبارک دن تھا کیونکہ غالباً سات ماہ کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مغرب اور عشاء کے درمیان مجلس فرمائی اور جو رساله درباره فتح مقدمه حضور تصنیف فرما رہے ہیں اس کے مجوزہ مضامین کا مختصر تذکرہ فرمایا۔ اس کے بعد ایک صاحب نے دریافت کیا کہ ایک شخص اپنی واجب الادا مہر کی ادائیگی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا مگر وہ عورت کہتی تھی تو اپنی نصف نیکیاں مجھے دے دے تو بخش دوں ۔ خاوند کہتا رہا کہ میرے پاس حسنات بہت کم ہیں بلکہ بالکل ہی نہیں ہیں ۔ اب وہ عورت مرگئی ہے خاوند کیا کرے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اسے چاہیے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دے دے۔ اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں سے ہے شرعی حصہ لے سکتی ہے اور علی ہذا القیاس خاوند بھی لے سکتا ہے۔ ایک لطیف نکتہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اثناء گفتگو میں ذکر کیا کہ یہ ایک لطیف بات ہے کہ جس قدر مجدد گذرے ہیں ان کے نام کے محمد یا احمد کی جز وضروری ہوتی رہی ل البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخه ۱۸ رفروری ۱۹۰۵ صفحه ۳، ۴ نیز الحکم جلد ۹ نمبر۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ صفحه ۲، ۳