ملفوظات (جلد 7) — Page 84
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد ہفتم دیکھ لو کہ اب کس کے دین کا نقارہ بج رہا ہے۔ کس کا نام روشن ہے جو خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس کو برکت دی جاتی ہے وہ بڑھتا ہے وہ پھلتا اور پھولتا ہے اور اس کے دشمنوں پر اسے فتح پر فتح ملتی ہے۔ لیکن جو خدا کی طرف سے نہیں ہوتا وہ مثل جھاگ کے ہوتا ہے جو کہ بہت جلد نابود ہو جاتا ہے۔ خدا کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا ۔ جس کا مدار تقویٰ پر ہوگا اور جس کے خدا کے ساتھ پاک تعلقات ہوں گے اسی کی نصرت ہوگی ۔ یہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں ہے کہ اس وقت اور ملہم ہمیں جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ بلکہ عیسی علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو کہ ملہم تھے اور وہ ان نبیوں کی تکذیب کرتے تھے تو اس وقت کے داناؤں نے یہی فیصلہ دیا تھا کہ جو سچا ہوگا اس کا کاروبار با برکت ہوگا۔ پس اب بجز اس بات کے اور فیصلہ نہیں نظر آتا کہ اگر قول میں پیچیدگی ہے تو فعل کو دیکھو، لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ درخواست کہ فعل ظاہر ہو عبث ہے میں تو ایک عاجز بندہ ہوں یہ خدا کا کام ہے کہ جو فعل وہ چاہے ظاہر کر دے۔ میں کیا ہوں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ اِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ وَ إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌن (العنکبوت : ۵۱) انبیاؤں کا کام بازیگروں کی طرح چٹے بٹے دکھانا نہیں ہوتا وہ تو خدا کے پیغام رساں ہوتے ہیں۔ علمی بحث الگ ہے اور الہامی بحث الگ ہے۔ مختصر فیصلہ یہی ہے کہ اگر قول میں تعارض ہے تو فعل خود فیصلہ کر دے گا ۔ ایک مفتری تحصیلدار گورنمنٹ سے عزت نہیں پا سکتا اور گرفتار کیا جاتا ہے تو مفتری علی اللہ کیسے اس کا محبوب ہو سکتا ہے اور وہ کب اس کی تائید کر سکتا ہے۔ اگر سچے کی عزت بھی ویسی ہو جیسے کہ جھوٹے کی تو پھر دنیا سے امان اُٹھ جاوے گا۔ پاس پس یاد رکھو کہ قول کے اشتباہ فعل سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔ میرے ساتھ جو وعدے خدا کے ہیں وہ ۳۰،۲۵ سال پیشتر براہین میں درج ہو چکے ہیں اور بہت سے پورے ہو گئے ہیں۔ جو باقی ہیں چاہو تو ان کا انتظار کرو۔ الہام میں دخل شیطانی بھی ہوتا ہے جیسے کہ قرآن شریف سے بھی ظاہر ہے مگر جو شخص شیطان کے اثر کے نیچے ہوا سے نصرت نہیں ملا کرتی نصرت اسے ہی ملا کرتی ہے جو رحمان کے زیر سایہ ہو۔