ملفوظات (جلد 7) — Page 83
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۳ جلد ہفتم عمل کرو میں بھی کرتا ہوں انجام پر دیکھ لینا کہ خدا کی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے جو امر خدا کی طرف سے ہو گا وہ بہر حال غالب ہو کر رہے گا والله غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ (يوسف : ۲۲) ۔ ان مختلف الہامات کے فیصلہ کے لیے بھی دراصل یہی معیار ہے کیونکہ ایک طرف تو اہل اسلام الہام کے مدعی ہیں دوسری طرف سکھ وغیرہ بھی۔ پس اگر یہ سب الہامات خدا کی طرف سے سمجھے جائیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا بھی بہت سے ہیں ۔ کیونکہ اگر وہ سب ایک ہی کا کلام ہے تو آپس میں ایک دوسرے کی ضد کیوں ہیں کہ وہی خدا ایک کو کہتا ہے کہ فلاں شخص سچا ہے اور دوسرے کو کہتا ہے کہ جھوٹا ہے ۔ پس اس میں فیصلہ کی جو آسان ترین راہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک قول ہوتا ہے اور ایک فعل ۔ اگر قول میں اختلاف ہے تو اب فعل کی انتظار چاہیے۔ قول پر اگر فیصلہ کا مدار رکھا جاوے تو اس کی نظیر دوسری جگہ نکل آتی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ تم کذاب ہوا۔ لیکن فعل کو کہاں چھپائیں گے۔ اس کی مثال تو ایک سورج کی ہے جس کی رؤیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ قول سے مراد ہماری وحی الہی ہے اور فعل سے نصرت اور تائیدات الہیہ۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ فعل کو دکھلاؤ تو یادر ہے کہ اس کا جلدی ظاہر کرنا ہمارا اپنا اختیار نہیں ہے اور کسی نبی کے اختیار میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ وہ آیات اللہ کو جب چاہے دکھا دیوے۔ ہاں خلق اللہ کی خاطر ان کو اس قسم کے اضطراب ضرور ہوتے ہیں اور وہ خواہاں ہوتے ہیں مگر آخر آیات خدا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اپنے مصالحہ سے ان کو کھولتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بڑا اضطراب تھا تو خدا تعالیٰ نے وحی کی کہ تو آسمان پر زمینہ لگا کر جا اور ان کو نشان لا دے۔ اگر ہم کذاب اور دجال ہیں تو صبر کرو ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ تَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمُ (المؤمن : ۲۹) جب سے دنیا قائم ہوئی ہے یہ کبھی اتفاق نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کا ذب کی تائید کر کے سچوں کو شکست دی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے مقابلہ پر الہام کے مدعی موجود تھے اور وہ آپ کو جھوٹا خیال کرتے تھے۔ مسیلمہ کذاب بھی انہی میں تھا۔ اگر قول پر مدار ہوتا تو اشتباہ رہتا مگر آخر فعل الہی نے فیصلہ کر دیا۔