ملفوظات (جلد 7) — Page 82
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۲ جلد هفتم مدعی ہیں دس سال کا عرصہ گذرا کہ ایک دفعہ امرتسر سے ایک سکھ کا خط آیا کہ مذہب سکھ کے سچا ہونے کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے۔ اور ایسے ہی ایک انگریز نے الہ آباد سے لکھا کہ مجھے عیسویت کے سچا ہونے کی نسبت الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی گئی ہے۔ اور ایک مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جن کو میں نیک جانتا ہوں ان کی اولاد امرتسر میں ہے۔ ان کو بھی دعویٰ الہام کا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے اور مرزا صاحب کا ذب اور دجال ہیں ۔ پھر ادھر ہماری جماعت میں بھی ہزار ہا ایسے آدمی ہیں جن کو الہام اور رؤیا کے ذریعہ سے یہ اطلاع ملی ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان مبارک سے تصدیق کی ہے کہ یہ سلسلہ منجانب اللہ ہے اور یہی ذریعہ ان کی بیعت کا ہوا ہے تو اب ان مختلف اقسام کے الہاموں میں جلدی سے فیصلہ تجویز کرنا تقویٰ سے بعید ہے۔ اس لیے میں جلدی کو پسند نہیں کرتا ۔ انسان کو چاہیے کہ صبر اور دعا سے کام لے اور تقویٰ کے پہلو کو ہاتھ سے نہ چھوڑے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا (النحل : ١٢٩ ) ۔ - ۱۲۹: - اس وقت خود اسلام میں کئی فرقے موجود ہیں جو کہ ایک دوسرے کی تردید کر رہے ہیں ۔ پھر دوسرے مذاہب کے حملے الگ ہیں ۔ ایک کتاب ترک اسلام لکھی گئی تھی اور اب ایک تہذیب الاسلام لکھی گئی ہے جس میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت فحش اور شرمناک حملے کئے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کل مذاہب اور فرقوں میں ایک جنگ چل رہی ہے اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہے کہ ہم حق پر ہیں۔ پس ایسی حالت میں فیصلہ کرنا ایک آسان امر نہیں ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی کو فہم دے اور رشد عطا کرے اور یا خود انسان جلدی نہ کرے اور صبر اور دعا سے کام لے تا کہ وقت پر حقیقت کھل جاوے کہ خدا کی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے کیونکہ جھوٹے مذہب کے ساتھ اس کی نصرت اور تائید کبھی شامل نہیں ہو سکتی ۔ اگر جھوٹے مذہب کی بھی وہی خاطر خدا کو ہو جو کہ سچے مذہب کی ہوتی ہے تو پھر سچ اور جھوٹ کا امتیاز کرنا محال ہو جائے گا۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے کہ قرآن شریف میں درج ہے یہ جواب دیا کہ اعْمَلُوا علی مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِل (الانعام : ۱۳۶) کہ اگر تم لوگوں پر میر اسچا ہونا مشتبہ ہے تو تم بھی اپنی اپنی جگہ