ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 81

ملفوظات حضرت مسیح موعود M جلد ہفتم امید ہے کہ وہ سمجھ جاویں گے اور ہم نے دیکھا کہ بعض عیسائی لوگ جو یہاں آتے ہیں ان کو جب نرمی سے سمجھایا جاتا ہے تو اکثر سمجھ جاتے ہیں اور تبدیل مذہب کر لیتے ہیں ( جیسے کہ ماسٹر عبد الحق صاحب نو مسلم ) پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے کمر بستہ ہو کر دین کی خدمت میں مصروف ہوں کیونکہ یہ وقت اسی کام کے لیے ہے اگر اب کوئی نہیں کرتا تو اور کب کرے گا ؟ بعض ایسے لوگ جن تک حضور علیہ السلام کی بعثت اور دعاوی کی مفصل کیفیت نہیں پہنچی تا ہم وہ حسن ظن رکھتے ہیں اور بسبب دور ہونے کے یقینی فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ ان کے ذکر پر آپ نے فرمایا کہ نیک لوگوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کیونکہ ان کو کامل علم نہیں ہے اور علم اصل میں اسی کو کہتے ہیں جبکہ انسان کی واقفیت رؤیت کے قائم مقام ہو۔ الہامات کے ذکر پر فرمایا کہ قضا و قدر کے اسرار چونکہ عمیق در عمیق ہوتے ہیں اس لیے بعض وقت الہامات اور رویا کی تفہیم میں انسان کو غلطی لگ جاتی ہے۔ مذکورہ بالا تقریر فرما کر حضرت اقدس تشریف لے گئے مگر پھر بہت جلد تشریف لائے اور فرمایا کہ عصر کا وقت ہو گیا ہے۔ اذان دے دی جاوے۔ خاں صاحب شادی خاں اذان دینے گئے اور حضور علیہ السلام نے مجلس فرمائی ۔ چونکہ اس وقت اہل اسلام میں سے بھی بعض مخالف اور منکر سچے الہام کی علامات حضرت مسیح موعود الہام کے مدعی ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کو حضرت مرزا صاحب کے کا ذب اور دجال ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ سے وحی ہوئی ہے اور ادھر بعض مذاہب غیر از اسلام میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہ اپنے مذہب کی تصدیق کے بذریعہ الہام مدعی ہیں اس لیے ایسے دعاوی کے جواب میں حضور علیہ السلام نے ایک لطیف تقریر فرمائی جو کہ بہت ہی غور اور توجہ کے قابل ہے۔ ہر ایک شخص اپنی حالت کے لحاظ سے معذور ہوتا ہے اس لیے ان میں فیصلہ کا ایک موٹا طریق ہے جسے ہم پیش کرتے ہیں۔ اس وقت مختلف اقوام جن کا اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے الہام کے