ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 80

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۰ جلد ہفتم سے ہی سمجھتے ہیں کیونکہ اگر وہ نہ چاہتا تو یہ لوگ کیا کرتے ۔ مگر جن لوگوں کے ذریعہ اور ہاتھوں سے اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوئی وہ بھی قابل شکر کے ہیں ۔ جہاں تک میرا خیال بلکہ یقین ہے وہ یہ ہے کہ ابھی تک ان لوگوں میں تعصب نہیں ہے اور آئندہ کا حال خدا کو معلوم ہے اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ان لوگوں کو خدمت دین ہی مطلوب ہے اور ان کی غرض خدا کو راضی کرنا ہے تو چھپ کر بیٹھ رہنے سے کیا فائدہ؟ ان کو چاہیے کہ خدمت دین کا ایک پہلو ہاتھ میں لیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے کسی قسم کی سختی ہرگز نہیں ہے۔ لوگوں کو تبلیغ اور اتمام حجت کریں۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ واعظ لوگوں کو گورنمنٹ گرفت کرتی ہے ۔ ہرگز نہیں ۔ ہاں جو لوگ مفسد ہوتے ہیں وہ ضرور خود ہی گرفت کے قابل ہوتے ہیں ۔ گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور؟ اب تو عیسویت کا یہ حال ہے کہ اس پر خود بخودموت آ رہی ہے۔ خود ان کے بڑے بڑے عالم اور فاضل تثلیث کے پکے دشمن ہو گئے ہیں اور نئی تعلیم نے ان کے دلوں میں یہ بات کوٹ کر بھر دی ہے کہ بناوٹی خدا اب کام نہیں آ سکتا۔ پادریوں کی یہ حالت ہے کہ صرف ٹکڑے کی خاطر کام کر رہے ہیں ۔ ایک دن تنخواہ کو دیر ہو جاوے تو کام چھوڑ دیتے ہیں اور خود عیسائی مذہب کی رڈ میں کتابیں لکھتے ہیں۔ اب یہ زمانہ کسر صلیب کا ہے۔ تقریر کے مقابلہ پر تلوار سے کام لینا بالکل اس زمانہ کا جہاد نادانی ہے۔ خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس طرح اور جن آلات سے کفار لوگ تم پر حملہ کرتے ہیں انہی طریقوں اور آلات سے تم ان لوگوں کا مقابلہ کرو۔ اب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے حملے اسلام پر تلوار سے نہیں ہیں بلکہ قلم سے ہیں ۔ لہذا ضرور ہے کہ ان کا جواب قلم سے دیا جاوے اگر تلوار سے دیا جاوے گا تو یہ اعتدا ہو گا جس سے خدا تعالیٰ کی صریح ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرۃ: ۱۹۱) ۔ پھر اگر عیسائیوں کو قتل بھی کر دیا جاوے تو اس سے وہ وساوس ہرگز دور نہ ہوں گے جو کہ دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ وہ اور پختہ ہو جاویں گے اور لوگ کہیں گے کہ واقعی میں اہل اسلام کے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی دلیل کوئی نہیں ہے لیکن اگر شیریں کلامی اور نرمی سے ان کے وساوس کو دور کیا جاوے تو