ملفوظات (جلد 7) — Page 79
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۹ جلد ہفتم ذکر بھی آگیا جو کہ ہر ایک کافر کو بذریعہ تلوار قتل کر دینے کو غزا اقرار دیتے ہیں اور انگریزوں کے ملکوں میں رہنا بدعت اور کفر خیال کرتے ہیں ۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کا یہ خیال کہ ہم کفر کے اثر سے بچنے کے لیے الگ رہتے ہیں اور اگر انگریزوں کی رعیت ہو کر رہیں تو آنکھوں سے کفر اور شرک کے کام دیکھنے پڑیں اور مشرکانہ کلام کان سے سننے پڑیں، میرے نزدیک درست نہیں ہیں ۔ کیونکہ اس گورنمنٹ نے مذہب کے بارے میں ہر ایک کواب تک آزادی دے رکھی ہے اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ امن اور سلامت روی سے اپنے اپنے مذہب کی اشاعت کرے۔ مذہبی تعصب کو گورنمنٹ ہرگز دخل نہیں دیتی۔ اس کی بہت سی زندہ نظیریں موجود ہیں ۔ ایک دفعہ خود عیسائی پادریوں نے ایک جھوٹا مقدمہ خون کا مجھ پر بنایا۔ ایک انگریز اور عیسائی حاکم کے پاس ہی وہ مقدمہ تھا اور اس وقت کا ایک لیفٹیننٹ گورنر بھی ایک پادری مزاج آدمی تھا مگر آخر اس نے فیصلہ میرے حق میں دیا اور بالکل بری کر دیا۔ بلکہ یہاں تک کہا کہ میں پادریوں کی خاطر انصاف کو ترک نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد ابھی ایک مقدمہ فیصلہ ہوا ہے پہلے تو وہ ہندو میجسٹریٹوں کے پاس تھا۔ نہیں معلوم کہ انہوں نے کسی رعب میں آ کر بہت ہی واضح اور بین وجوہات کو نظر انداز کر دیا اور مجھ پر جرمانہ کیا لیکن آخر جب اس کی اپیل ایک انگریز حاکم کے پاس ہوئی تو اس نے بری کر دیا اور مجسٹریٹ کی کارروائی پر افسوس کیا اور کہا کہ جو مقدمہ اپنے ابتدائی مرحلہ پر خارج کے قابل تھا اس پر اس قدر وقت ضائع کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں ابھی تک عدل اور انصاف کا مادہ موجود ہے۔ اگر کسی قسم کا مذہبی تعصب یا بغض ہوتا تو کم از کم میرے ساتھ تو ضرور برتا جاتا۔ تین لاکھ کے قریب جماعت ہے پھر افغانستان کے لوگ بھی آ آ کر بیعت کرتے رہتے ہیں اور ایک نیا فرقہ ہونے کی وجہ سے بھی گورنمنٹ کی نظر اور توجہ اس طرف ہونی چاہیے تھی مگر دیکھ لو کہ قریب آٹھ کے ہمارے مقدمات ہوئے ہیں جن میں سے سوائے ایک دو کے باقی کل مخالفین کی طرف سے ہم پر تھے مگر سب میں کامیابی ہم کو ہی حاصل ہوئی ہے۔ اور انگریزوں نے ہی ہمارے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔ اگر چہ ہم ان سب کامیابیوں کو خدا کی طرف