ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 78

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۸ جلد ہفتم جس کا جی چاہے ازالہ شبہات کے لیے ہم سے کلام یا تحریر کر سکتا ہے۔ بحث میں تو فریقین کو ہار جیت کا خیال ہوتا ہے مگر اس میں یہ خیال نہیں ہوتا ۔ بحث کے بند کرنے سے ہماری یہ غرض نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی اعتراض کرے یا سوال کرے یا اسے کچھ وساوس ہوں تو اس کی طرف توجہ ہی نہ کی جاوے بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ جواب اور جواب الجواب اور پھر ہار جیت کا جو خیال لوگوں کو ہوتا ہے اس سے وہ احقاق حق سے دور جا پڑتے ہیں۔ ورنہ سوالات اور ازالہ وساوس کے لیے دروازہ کھلا ہے جس کا جی چاہے ہم سے پوچھ سکتا ہے ۔ لے ۹ ر فروری ۱۹۰۵ء ظہر کے وقت تشریف لاکر طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ سردی کی شدت میں یہ کم ہو جایا کرتی تھی مگر اب سردی کی شدت کے ساتھ اس کی بھی شدت ترقی کر رہی ہے۔ حالانکہ ابھی اس کی مزید ترقی کے ایام آنے والے ہیں ۔ ہے ۱۱ فروری ۱۹۰۵ء (بوقت ظهر) انگریزوں کی حکومت میں رہنے کا مسئلہ غیر کی نمازادا فرماکر حضرت اقدس تشریف لے گئے لیکن جناب صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی کے اقارب میں سے ایک صاحب مولوی احمد سعید صاحب انصاری سهار نپوری برادر زاده و شاگرد خلیفہ محی السنة وقامع البدعة حافظ حدیث جناب مولا نا شیخ محمد انصاری سہارنپوری مولداً مکی مهاجراً مرحوم احقاق حق کے خیال سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس لیے صاحبزادہ صاحب نے حضور اقدس سے ان کی ملاقات کی درخواست کی جس پر حضور علیہ السلام اسی وقت تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر مجلس فرمائی ۔ بعد استفسار اسم و سکونت و مختلف اذکار کے مسئلہ جہاد کا تذکرہ ہوا۔ جس میں ضمناً بعض ان گروہوں کا لے ، کے البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخہ ۱۸ رفروری ۱۹۰۵ صفحه ۳ نیز الحکم جلد ۹ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ رفروری ۱۹۰۵ صفحه ۲