ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 77

ملفوظات حضرت مسیح موعود ایک شخص نے بیعت کی اور درخواست کی کہ تبرگا مجھے کچھ پڑھا دیا جاوے ۔ جسے برکت چاہنا میں پڑھتا رہا کروں ۔ حضور علیہ السلام نے اپنی زبان مبارک سے اسے سورۃ الحمد ساری پڑھادی۔ ۸ فروری ۱۹۰۵ء مالیر کوٹلہ سے ایک معزز رئیس نے لکھا کہ ایک مولوی صاحب اتفاق سے انہیں مل گئے ہیں اس لئے وہ قادیان آ کر تحقیق حق چاہتے ہیں ۔ جواب میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ جلد ہفتم بے شک وہ آجا ئیں تحقیق حق کے لئے سائلین کا دروازہ کھلا ہے وہ تحریری سوال کریں جواب تحریری دے دیا جاوے گا۔ اس کے لئے یہاں آنا بھی چنداں ضرور نہیں ۔ ہاں بصورت مباحثہ کوئی امر نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں اصل مقصد ہار جیت ہوتی ہے اس لئے اعلام الہی کے موافق انجام آتھم میں وہ سلسلہ بند کر دیا گیا ہے ۔ ( بوقت ظهر ) ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو آپ کے ایک خادم آمدہ از کشمیر شرک سے پر ہیز نے سر بسجود ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام اُسْجُدُوا لآدم کو اس کے ظاہری الفاظ پر پورا کرنا چاہا اور نہایت گریہ وزاری سے اظہار محبت کیا ۔ مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے اس حرکت سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ مشرکانہ باتیں ہیں ان سے پر ہیز چاہیے۔ مباحثات کو بند فرمانا ایک شخص کی درخواست مباحث پر فرمایا کہ حسب اعلام الہی ہم نے مباحثہ کا دروازہ بند کر دیا ہوا ہے۔ لیکن ہاں ل البدر جلد ۴ نمبر ۵ مورخه ۸ فروری ۱۹۰۵ ء صفحه ۲ الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۵ ء صفحه ۱۲