ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 76

ملفوظات حضرت مسیح موعود جاتی ہے۔ یہی حال اب عیسائیت کا ہوگا ۔ لے ۲۸ جنوری ۱۹۰۵ء حضور علیہ السلام فجر کے وقت تشریف لائے تو حضرت شہزادہ عبداللطیف کے مریدین حضور علیا چند ایک احباب نے شرف بیعت حاصل کیا۔ جلد ہفتم بعد ازاں حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب شہید علیہ الرحمۃ کی جماعت مریدین کا تذکرہ ہوتا رہا کہ اب بعض لوگ ان میں سے آ آ کر بیعت کرتے جاتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے اظہار مسرت فرمایا کیونکہ اس طریق سے ان کے وحشیانہ خیالات کی خود بخو د اصلاح ہو رہی ہے۔ یکم فروری ۱۹۰۵ء (بوقت ظهر ) دو الہامات اور ایک رویا رویا ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو ذیل کے الہامات ورڈ یا سنائے ۔ ا - إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْ لَا أَنْ تُفَتِّدُونِ إنِّي مَعَ الرُّوحِ مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ - ایک کاغذ دکھا یا گیا جس میں کچھ سطور فارسی خط میں ہیں اور سب انگریزی لکھا ہوا ہے۔ مطلب جن کا یہ سمجھ میں آیا کہ جس قدر روپیہ نکلتا ہے سب دے دیا جاوے گا۔ اس کے بعد سردی کی شدت کا ذکر رہا کہ رات کو برف جم گئی اور اکثر لڑکوں نے اس سے قلفیاں بنا کر کھائیں جس سے اکثر بیمار ہو گئے ہیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس کا استعمال اس موسم میں بہت مضر ہے۔ البدر جلد ۴ نمبر ۴ مورخہ یکم فروری ۱۹۰۵ صفحه ۲، ۳ ۲ البدر جلد ۴ نمبر ۵ مورخه ۸ فروری ۱۹۰۵ ء صفحه ۲