ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 73

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۳ جلد ہفتم لیوے۔ مجھے الہام ہوا تھا عَفَتِ الرِّيَارُ مَحَلُّهَا وَ مَقَامُهَا ۔ یہ ایک خطرناک کلمہ ہے جس میں طاعون کی خبر دی گئی ہے کہ انسان کے لیے کوئی مفر اور کوئی جائے پناہ نہ رہے گی ۔ اس لیے میں تم سب کو گواہ رکھتا ہوں کہ اگر کوئی سچی تبدیلی نہ کرے گا تو وہ ہرگز اس لائق نہ ہوگا کہ مجھ کو دعا کے لیے لکھے ۔ جو لوگ خدا کے بتلائے ہوئے صراط مستقیم پر چلیں گے وہی محفوظ رہیں گے ۔ خدا کا وعدہ ایسے ہی لوگوں کی حفاظت کا ہے جو سچی تبدیلی اپنے اندر کرتے ہیں۔ مطلق بیعت انسان کے کیا کام آسکتی ہے؟ پورا نسخہ جب تک نہ پیے تو مریض کو فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ اس لیے پوری تبدیلی کرنی چاہیے۔ جہاں تک ہو سکے دعا کرو اور اللہ تعالیٰ سے کہو کہ وہ تم کو ہر ایک قسم کی توفیق عطا کرے۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۰۴ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کی علالت طبع کا حال استفسار فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر دودھ ہضم ہونے لگ جاوے تو بخار اس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ کے یکم جنوری ۱۹۰۵ء ایڈیٹر البدر نے ایک خاکروب کا تب کی درخواست پیش کی کہ اس کا مذہب بھی خاکروبوں کا ہی ہے مگر فن کتابت سے واقف ہے اور کار خانہ البدر میں آنا چاہتا ہے چونکہ میری طبیعت کراہت کرتی ہے اس لیے حضور سے مشور تا پوچھتا ہوں ۔ آپ نے تبسم فرما کر فرمایا کہ بات تو واقعی مکر وہ معلوم ہوتی ہے۔ سے البدر جلد ۴ نمبر ۳ مورخه ۲۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲ ، ۳ نیز الحکم جلد ۹ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۲، ۳ ۲ ، ۳ البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۵