ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 72

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۲ جلد ہفتم جاوے اور کسی قسم کی بدظنی اس پر نہ کی جاوے۔ جو بدظنی کرتا ہے وہی کافر ہوتا ہے۔ مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو غایت درجہ قادر جانے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہت نیکیاں کرنے سے انسان ولی بنتا ہے ۔ یہ نادانی ہے ۔ مومن کو تو خدا نے اول ہی ولی بنایا ہے جیسے کہ فرمایا ہے اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا ( البقرۃ : ۲۵۸) اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ہزاروں عجائبات ہیں اور انہی پر کھلتے ہیں جو دل کے دروازہ کھول کر رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بخیل نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص مکان کا دروازہ خود ہی نہیں کھولتا تو پھر روشنی کیسے اندر آوے۔ پس جو شخص خدا کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کوتا ہی نہ کرے۔ پھر جب اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچے گی تو وہ خدا کے نور کو دیکھ لے گا ۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰ ) میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجالائے ۔ یہ نہ کرے کہ اگر پانی ۲۰ ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہار دے۔ ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہار دے۔ پھر اس امت کے لیے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا و تزکیہ نفس سے کام لے گا سب وعدے قرآن شریف کے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔ ہاں جو خلاف کرے گا وہ محروم رہے گا کیونکہ اس کی ذات غیور ہے ۔ اس نے اپنی طرف آنے کی راہ ضرور رکھی ہے لیکن اس کے دروازے تنگ بنائے ہیں ۔ پہنچتا وہی ہے جو تلخیوں کا شربت پی لیوے۔ لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں حتی کہ بعض اسی میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ایک کانٹے کی درد بھی برداشت کرنا پسند نہیں کرتے جب تک اس کی طرف سے صدق اور صبر اور وفاداری کے آثار ظاہر نہ ہوں تو ادھر سے رحمت کے آثار کیسے ظاہر ہوں ۔ ان کو دیا۔ میرے کہنے کا صدق دکھلاؤ ابراہیم علیہ السلام نے صدق دکھایا تو ان کو ابوالانبیاء بنا دیا۔ مدعا یہ ہے کہ دن بہت سخت ہیں اور کسی نے اب تک نہیں سمجھا تو آئندہ سمجھ