ملفوظات (جلد 7) — Page 71
ملفوظات حضرت مسیح موعود ال جلد ہفتم کرتے تھے اور دل کا حقیقی میلان جو کہ عبادت کی روح ہے ہرگز نہ تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ۔ پس اس وقت بھی جو لوگ پاکیزگی قلب کی فکر نہیں کرتے تو اگر رسم و عادت کے طور پر وہ سینکڑوں ٹکریں مارتے رہیں ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اعمال کے باغ کی سرسبزی پاکیزگی قلب سے ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسْهَا ( الشَّمس : ۱۱،۱۰) کہ وہی با مراد ہوگا جو کہ اپنے قلب کو پاکیزہ کرتا ہے اور جو اسے پاک نہ کرے گا بلکہ خاک میں ملا وے گا یعنی سفلی خواہشات کا اسے مخزن بنارکھے گا وہ نامرادر ہے گا۔ اس بات سے ہمیں انکار نہیں ہے کہ خدا کی طرف آنے کے لیے ہزار ہا روکیں ہیں ۔ اگر یہ نہ ہوتیں تو آج صفحہ دنیا پر نہ کوئی ہندو ہوتا نہ عیسائی ، سب کے سب مسلمان نظر آتے ۔ لیکن ان روکوں کو دور کرنا بھی خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔ وہی توفیق عطا کرے تو انسان نیک و بد میں تمیز کر سکتا ہے۔ اس لیے آخر کار بات پھر اسی پر آٹھہرتی ہے کہ انسان اسی کی طرف رجوع کرے تا کہ قوت اور طاقت دیوے ۔ کوشش کی برکت دنیا میں جس قدر مشورے نفس پرستی اور شہوت پرستی وغیرہ کے ہوتے ہیں ان سب کا ماخذ نفس اتارہ ہی ہے لیکن اگر انسان کوشش کرے تو اسی اتارہ سے پھر وہ لوامہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ کوشش میں ایک برکت ہوتی ہے اور اس سے بھی بہت کچھ تغیرات ہو جاتے ہیں۔ پہلوانوں کو دیکھو کہ وہ ورزش اور محنت سے بدن کو کیا کچھ بنا لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ محنت اور کوشش سے نفس کی اصلاح نہ ہو سکے۔ نفس اتارہ کی مثال آگ کی ہے جو کہ مشتعل ہو کر ایک جوش طبیعت میں پیدا کرتا ہے جس سے انسان حد اعتدال سے گذر جاتا ہے۔ لیکن جیسے پانی آگ سے گرم ہو کر آگ کی مثال تو ہو جاتا ہے اور جو کام آگ سے لیتے ہیں وہ اس سے بھی لے لیتے ہیں مگر جب اسی پانی کو آگ کے اوپر گرایا جاوے تو وہ اس آگ کو بجھا دیتا ہے کیونکہ ذاتی صفت اس کی آگ کو بجھانا ہے۔ وہ وہی رہے گی ۔ ایسے ہی اگر انسان کی روح نفس اتارہ کی آگ سے خواہ کتنی ہی گرم کیوں نہ ہو مگر جب وہ نفس سے مقابلہ کرے گی اور اس کے اوپر گرے گی تو اسے مغلوب کر کے چھوڑے گی ۔ بات صرف اتنی ہے کہ خدا کو ہر ایک بات پر قادر مطلق جانا