ملفوظات (جلد 7) — Page 70
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ہفتم نہ گاڑی میں جتے گا نہ زراعت کرے گا نہ کنوئیں میں لگے گا تو آخر سوائے ذبح کے اور کسی کام نہ آوے گا ۔ ایک نہ ایک دن مالک اسے قصاب کے حوالہ کر دے گا۔ ایسے ہی جو انسان خدا کی راہ میں مفید ثابت نہ ہوگا تو خدا اس کی حفاظت کا ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا۔ ایک پھل اور سایہ دار درخت کی طرح اپنے وجود کو بنانا چاہیے تا کہ مالک بھی خبر گیری کرتا رہے۔ لیکن اگر اس درخت کی مانند ہوگا کہ جو نہ پھل لاتا ہے اور نہ پتے رکھتا ہے کہ لوگ سایہ میں آ بیٹھیں تو سوائے اس کے کہ کاٹا جاوے اور آگ میں ڈالا جاوے اور کس کام آ سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الريت : (۵۷) جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں ۔ فلاں مکان بنالوں ۔ فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے۔ تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔ دل خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کی تڑپ انسان کے دل میں خدا کے قرب کے حصول پ کا ایک درد ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا ۔ اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا ۔ خدا تعالیٰ مہلت اس لیے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے حکم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھا وے تو اسے وہ کیا کرے ۔ پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔ سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔ اگر عبادت تو بجا لاتا ہے مگر دل کا خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی؟ اس لیے دل کا رجوع نام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔ اب دیکھو کہ ہزاروں مساجد ہیں ۔ مگر سوائے اس کے کہ اس میں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟ ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہودیوں کی حالت تھی کہ رسم اور عادت کے طور پر عبادت ا