ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 69

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۹ جلد ہفتم كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (التكاثر : ٦) اگر تم کو یقینی علم حاصل ہو جاوے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاری زندگی جہنمی زندگی ہے اور جن خیالات میں تم رات دن لگے ہوئے ہو وہ بالکل ناکارہ ہیں۔ میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح یہ باتیں لوگوں کے دل نشین ہو جاویں مگر آخر کار یہی کہنا پڑتا ہے کہ اپنے اختیار میں کچھ نہیں ہے جب تک خدا تعالیٰ خود ایک واعظ دل میں نہ پیدا کرے تب تک فائدہ نہیں ہوتا ۔ جب انسان کی سعادت اور ہدایت کے دن آتے ہیں تو دل کے اندر ایک واعظ خود پیدا ہو جاتا ہے۔ اور اس وقت اس کے دل کو ایسے کان مل جاتے ہیں کہ وہ دوسرے کی بات کو سنتا ہے۔ راتوں کو اور دنوں کو خوب سوچ کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انسان بہت ہی بے بنیاد شے ہے اور اس کے وجود کی کوئی گل بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ایک آنکھ ہی پر نظر کرو کہ کس قدر باریک عضو ہے اگر ایک ذرا پتھر آلگے تو فوراً نا بینا ہو جاوے۔ پھر اگر یہ خدا کی نعمت نہیں ہے تو کیا ہے؟ کیا کسی نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ خدا اسے ضرور بینا ہی رکھے گا؟ اور اسی پر سب قولی کا قیاس کرو کہ اگر آج کسی میں فرق آجاوے تو انسان کی کیا پیش چل سکتی ہے۔ غرضیکہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے اور مومن کا گزارا تو ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کا دھیان ہر وقت اس کی طرف لگا نہ رہے۔ اگر کوئی ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور ایک دینی نظر سے ان کو وقعت نہیں دیتا تو وہ اپنے دنیوی معاملات پر ہی نظر ڈال کر دیکھے کہ کیا خدا کی تائید اور فضل کے سوا کوئی کام اس کا چل سکتا ہے؟ اور کوئی منفعت دنیا کی وہ حاصل کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ دین ہو یا دنیا ہر ایک امر میں اسے خدا کی ذات کی بڑی ضرورت ہے اور ہر وقت اس کی طرف احتیاج لگی ہوئی ہے جو اس کا منکر ہے سخت غلطی پر ہے۔ خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھویا نہ ۔ وہ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔ انسان جس قدر اپنے وجود کو مفید اور کار آمد ثابت کرے گا اسی قدر اس کے انعامات کو حاصل کرے گا۔ دیکھو! کوئی بیل کسی زمیندار کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہومگر جب وہ اس کے کسی کام بھی نہ آوے گا