ملفوظات (جلد 7) — Page 68
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۸ جلد ہفتم دین کا پلڑا دنیا کے پلڑے سے بھاری رکھے ۔ اگر کوئی شخص رات دن نماز روزہ میں مصروف ہے تو یہ بھی اس کے کام ہرگز نہیں آ سکتا۔ جب تک کہ خدا کو اس نے مقدم نہیں رکھا ہوا۔ ہر بات اور فعل میں اللہ تعالیٰ کو نصب العین بنانا چاہیے ورنہ خدا کی قبولیت کے لائق ہرگز نہ ٹھہرے گا۔ دنیا کا ایک بت ہوتا ہے جو کہ ہر وقت انسان کی بغل میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مقابلہ اور مواز نہ کر کے دیکھے گا تو اسے معلوم ہوگا کہ طرح طرح کی نمائش اس نے دنیا کے لیے ہی بنا رکھی ہے اور دین کا پہلو بہت کمزور ہے۔ حالانکہ عمر کا اعتبار نہیں اور نہ علم ہے کہ اس نے اس پل کے بعد زندہ بھی رہنا ہے کہ نہیں ۔ شیخ سعدی نے کیا عمدہ فرمایا ہے ۔ ع مکن تکیه بر عمر نا پائیدار اس وقت جس قدر لوگ کھڑے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ ایک سال تک ان میں سے میں ضرور زندہ رہوں گا لیکن اگر خدا کی طرف سے علم ہو جاوے کہ اب زندگی ختم ہے تو ابھی سب ارادے باطل ہو جاتے ہیں ۔ پس خوب یا د رکھو کہ مومن کو دنیا کا بندہ نہ ہونا چاہیے ۔ ہمیشہ اس امر میں کوشاں رہنا چاہیے کہ کوئی بھلائی اس کے ہاتھ سے ہو جاوے۔ خدا تعالیٰ بڑا رحیم کریم ہے اور اس کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ تم دکھ پاؤ لیکن خوب یا درکھو کہ جو اس سے عمداً دوری اختیار کرتا ہے اس پر اس کا قہر ضرور ہوتا ہے۔ عادت اللہ اسی طرح سے چلی آتی ہے۔ نوح کے زمانہ کو دیکھو ، لوط کے زمانہ کو دیکھو، موسی کے زمانہ کو دیکھو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو دیکھو کہ اس وقت جن لوگوں نے عمداً خدا سے بعد اختیار کیا ان کا کیا حال ہوا۔ ان لمبی آرزوؤں نے انسان کو ہلاک کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے الهام التكَاثُرُ حَتَّى رُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ( التكاثر : ۲، ۳) کہ اے لوگو ! جو تم خدا سے غافل ہو دنیا طلبی نے تمہیں غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو مگر غفلت سے باز نہیں آتے ۔ گلا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (التکاثر : ۴) مگر اس غلطی کا تم کو عنقریب علم ہو جائے گا ۔ ثُمَّ كَلا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (التكاثر : ۵) پھر تم کو اطلاع دی جاتی ہے کہ عنقریب تم کو علم ہو جاوے گا کہ جن خواہشات کے پیچھے تم پڑے ہو وہ ہر گز تمہارے کام نہ آئیں گی اور حسرت کا موجب ہوں ہوں گی۔