ملفوظات (جلد 7) — Page 67
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۷ جلد ہفتم میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی ۔ مجھے صحت ہو جاوے تو میں اخلاقی تعلیم پر ایک مستقل رسالہ لکھوں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرا منشا ہے وہ ظاہر ہو جاوے اور وہ میری جماعت کے لیے ایک کامل تعلیم ہو اور ابْتِغَاءُ مَرْضَاتِ الله کی راہیں اس میں دکھائی جائیں۔ مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتا ہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ ۔ میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی ۔ میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اٹھاتا ہے تو چار قدم گرتا ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کر دے گا۔ اس لیے تم بھی کوشش ، تدبیر، مجاہدہ اور دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتا ہی نہیں ۔ جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۰۴ء تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو کہ آپ نے بعد از نماز جمعہ مسجد اقصیٰ میں فرمائی چونکہ خاکسار ایڈیٹر کچھ دیر سے پہنچا تھا اس لیے جس قدر ضبط ہو سکا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔ سلسلہ تقریر سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انقطاع دنیا اور حصول قرب الی اللہ کے متعلق مضمون تھا اور وہ تقریر یہ ہے۔ اللہ تعالی کو اپنا نصب العین بنائیں انسان کو چاہیے کہ جنات کا پلڑا بھاری رکھے۔ مگر جہاں تک دیکھا جاتا ہے اس کی مصروفیت اس قدر دنیا میں ہے کہ یہ پلڑا بھاری ہوتا نظر نہیں آتا ۔ رات دن اسی فکر میں ہے کہ وہ کام دنیا کا ہو جاوے۔ فلانی زمین مل جاوے۔ فلاں مکان بن جاوے۔ حالانکہ اسے چاہیے کہ افکار میں بھی الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲ تا ۴