ملفوظات (جلد 7) — Page 66
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۶ جلد ہفتم لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لیے کہ شریروں کی شرارت سے مخلوق کو بچایا جائے اور ایک حق پرست قوم کے لیے راہ کھل جاوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے لیے بدی نہیں چاہی ۔ آپ تو رحم مجسم تھے ۔ اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے پورا تسلّط حاصل کر لیا تھا اور شوکت اور غلبہ آپ کو مل گیا تھا تو آپ ان تمام ائمۃ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دکھ دیتے رہتے تھے قتل کروا دیتے اور اس میں انصاف اور عقل کی رو سے آپ کا پلہ بالکل پاک تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ عرف عام کے لحاظ سے اور عقل وانصاف کے لحاظ سے آپ کو حق تھا کہ ان لوگوں کو قتل کر وا دیتے مگر نہیں ، آپ نے سب کو چھوڑ دیا۔ آج کل جو لوگ غدر کرتے ہیں اور باغی ہوتے ہیں انہیں کون پناہ دے سکتا ہے۔ جب ہندوستان میں غدر ہو گیا تھا اور اس کے بعد انگریزوں نے تسلّط عام حاصل کر لیا تو تمام شریر باغی ہلاک کر دیئے گئے اور ان کی یہ سزا بالکل انصاف پر مبنی تھی۔ باغی کے لیے کسی قانون میں رہائی نہیں ۔ لیکن یہ آپ ہی کا حوصلہ تھا کہ اس دن آپ نے فرمایا کہ جاؤ تم سب کو بخش دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نوع انسان سے بہت بڑی ہمدردی تھی ایسی ہمدردی کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔ اس کے بعد بھی اگر کہا جاوے کہ اسلام دوسروں سے ہمدردی کی تعلیم نہیں دیتا تو اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوگا ؟ یقیناً یا درکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا ۔ جس جس قدر انسان متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایڈا کو پسند نہیں کرتا۔ مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہو سکتا۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے کوئی دکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے انہوں نے پہنچایا ہے لیکن پھر بھی ان کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو اب بھی تیار ہیں۔ شخص جماعت کو خاص نصیحت پہ تم جومیرے ساتھ تعلق رکتے ہو یا رکھو کہ تم رفض سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو، ہمدردی کرو اور بلاتمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمًا وَ أَسِيرًا ( الدهر : ٩ ) وه اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔