ملفوظات (جلد 7) — Page 65
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۵ جلد هفتم احسان والا اپنا احسان جتلاوے ۔ مگر ان سب سے بڑھ کر ایک درجہ ہے کہ انسان ایسے طور پر نیکی کرے جو محبت ذاتی کے رنگ میں ہو جس میں احسان نمائی کا بھی کوئی حصہ نہیں ہوتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے وہ اس پرورش میں کسی اجر اور صلے کی خواستگار نہیں ہوتی بلکہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو بچے کے لیے اپنے سارے سکھ اور آرام قربان کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی بادشاہ کسی ماں کو حکم دے دے کہ تو اپنے بچہ کو دودھ مت پلا اور اگر ایسا کرنے سے بچہ ضائع بھی ہو جاوے تو اس کو کوئی سزا نہیں ہوگی تو کیا ماں ایسا حکم سن کر خوش ہو گی ؟ اور اس کی تعمیل کرے گی ؟ ہرگز نہیں ۔ بلکہ وہ تو اپنے دل میں ایسے بادشاہ کو کوسے گی کہ کیوں اس نے ایسا حکم دیا۔ پس اس طریق پر نیکی ہو کہ اسے طبعی مرتبہ تک پہنچایا جاوے۔ کیونکہ جب کوئی شے ترقی کرتے کرتے اپنے طبعی کمال تک پہنچ جاتی ہے اس وقت وہ کامل ہوتی ہے۔ یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ نیکی کو بہت پسند کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔ اگر وہ بدی کو پسند کرتا تو بدی کی تاکید کرتا مگر اللہ تعالیٰ کی شان اس سے پاک ہے۔ (سُبْحَانَهُ تَعَالَى شَانُهُ ) - شمنی ہوتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحم مجسم تھے بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ وے ہے۔ جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں ہمدردی اگر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیاں کیوں کی تھیں؟ وہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطر ناک دکھ اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طور پر ۔ تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے۔ مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں ۔ آخر جب آپ مدینہ تشریف ل البدر سے ۔ طبعی جوش سے نوع انسان کی ہمدردی کا نام ایتاء ذیا انسان کی ہمدردی کا نام ایتاء ذی القربیٰ ہے اور اس ترتیب سے خدا تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ اگر تم پورا نیک بننا چاہتے ہو تو اپنی نیکی کو ایتاء ذی القربی یعنی طبعی درجہ تک پہنچاؤ۔ جب تک کوئی شے ترقی کرتی کرتی اپنے اس طبعی مرکز تک نہیں پہنچتی تب تک وہ کمال کا درجہ حاصل نہیں کرتی ۔“ البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه (۴)