ملفوظات (جلد 7) — Page 64
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد ہفتم نے اس کو جواب دیا کہ یہ اسی صدقہ و خیرات کا ثمرہ تو ہے کہ تو مسلمان ہو گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کے ادنی فعلِ اخلاص کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کی ہمدردی اور خبر گیری حقوق اللہ کی حفاظت کا باعث ہو جاتی ہے۔ پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔ انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت ، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے ۔ ع بنی آدم اعضائے یک دیگراند یا درکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔ میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔ نہیں میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو، ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور ۔ میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں بعض اس قسم کے خیالات بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایک شیرے کے مٹکے میں ہاتھ ڈالا جاوے اور پھر اس کو تلوں میں ڈال کر تیل لگائے جاویں تو جس قدر تل اس کو لگ جاویں اس قدر دھوکہ اور فریب دوسرے لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ ان کی ایسی بیہودہ اور خیالی باتوں نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ان کو قریباً وحشی اور درندہ بنا دیا ہے۔ مگر میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہرگز ہرگز اپنی ہمدردی کے دائرہ کو محدود نہ کرو۔ اور ہمدردی کے لیے اس تعلیم کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے یعنی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَائِي ذِي القُربى (النحل: ۹۱) یعنی اول نیکی کرنے میں تم عدل کو ملحوظ رکھو ۔ جو شخص تم سے نیکی کرے تم بھی اس ساتھ نیکی کرو۔ اور پھر دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اس سے بھی بڑھ کر اس سے سلوک کرو۔ یہ احسان ہے۔ احسان کا درجہ اگر چہ عدل سے بڑھا ہوا ہے اور یہ بڑی بھاری نیکی ہے لیکن کبھی نہ کبھی ممکن ہے کے ساتھ