ملفوظات (جلد 7) — Page 63
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۳ جلد ہفتم ہوگا ؟ کبھی نہیں ۔ حالانکہ اس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیں دی، مگر نہیں اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک گو یا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ خدا تعالیٰ کو بھی اس طرح پر اس بات کی چڑ ہے کہ کوئی اس کی مخلوق سے سرد مہری برتے ۔ کیونکہ اس کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے۔ پس جو شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گو یا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔ غرض اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے۔ میری دانست میں یہی پہلو حقوق العباد کا ہے جو حقوق اللہ کے پہلو کو تقویت دیتا ہے ۔ جو شخص نوع انسان کے ساتھ اخلاق سے پیش آتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ جب انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک کام کرتا ہے اور اپنے ضعیف بھائی کی ہمدردی کرتا ہے تو اس اخلاص سے اس کا ایمان قوی ہو جاتا ہے مگر یہ یا د رکھنا چاہیے کہ نمائش اور نمود کے لیے جو اخلاق برتے جائیں وہ اخلاق خدا کے لیے نہیں ہوتے اور ان میں اخلاص کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ اس طرح پر تو بہت سے لوگ سرائیں وغیرہ بنا دیتے ہیں ان کی اصل غرض شہرت ہوتی ہے۔ اور اگر انسان خدا تعالیٰ کے لیے کوئی فعل کرے تو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرتا اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔ میں نے تذکرۃ الاولیاء میں پڑھا ہے کہ ایک ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ بارش ہوئی اور کئی روز تک رہی۔ ان بارش کے دنوں میں میں نے دیکھا کہ ایک اُسی برس کا بوڑھا گبر ہے جو کو ٹھے پر چڑیوں کے لیے دانے ڈال رہا ہے۔ میں نے اس خیال سے کہ کافر کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں اس سے کہا کہ کیا تیرے اس عمل سے تجھے کچھ ثواب ہوگا ؟ اس گبر نے جواب دیا کہ ہاں ضرور ہوگا ۔ پھر وہی ولی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جو میں حج کو گیا تو دیکھا کہ وہی گبر طواف کر رہا ہے۔ اس گبر نے مجھے پہچان لیا اور کہا کہ دیکھو ان دانوں کا مجھے ثواب مل گیا یا نہیں؟ یعنی وہی دانے میرے اسلام تک لانے کا موجب ہو گئے ۔ حدیث میں بھی ایک صحابی کا ذکر آیا ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایام جاہلیت میں میں نے بہت خرچ کیا تھا۔ کیا اس کا ثواب بھی مجھے ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم