ملفوظات (جلد 7) — Page 62
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۲ جلد ہفتم ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لیے یہ تیار نہیں ہوتا ۔ یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو نہیں کرتے کہ اس کے لیے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے که اگر تم گوشت پکاؤ تو شور با زیادہ کر لوتا کہ اسے بھی دے سکو ۔ اب کیا ہوتا ہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پروا نہیں ۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سوکوس کے فاصلے پر بھی ہوں ۔ ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہیے کہ وہ اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے کہاں تک ان امور کی پروا کرتا ہے اور یہ کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے ہمدردی اور سلوک کرتا ہے۔ اس کا بڑا بھاری مطالبہ انسان کے ذمہ ہے۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ میں پیاسا تھا اور تو نے مجھے پانی نہ دیا۔ میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہ کی ۔ جن لوگوں سے یہ سوال ہو گا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! تو کب بھوکا تھا جو ہم نے کھانا ہ دیا۔ تو کب پیاسا تھا جو پانی نہ دیا اور کب بیمار تھا جو تیری عیادت نہ کی؟ پھر خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ جو ہے وہ ان باتوں کا محتاج تھا مگر تم نے اس کی کوئی ہمدردی نہ کی ۔ اس کی ہمدردی میری ہی ہمدردی تھی ۔ ایسا ہی ایک اور جماعت کو کہے گا کہ شاباش ! تم نے میری ہمدردی کی ۔ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔ میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلا یا وغیرہ ۔ وہ جماعت عرض کرے گی کہ اے ہمارے خدا! ہم نے کب تیرے ساتھ ایسا کیا ؟ تب اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میرے فلاں بندہ کے ساتھ جو تم نے ہمدردی کی وہ میری ہی ہمدردی تھی۔ دراصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم ہے اس اپنے دوست سے جاوے اور وہ سے خوش