ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 61

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٦١ جلد ہفتم شریعت کے دو ہی بڑے حصے اور پہلو ہیں جن کی حفاظت انسان حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ضروری ہے۔ ایک حق اللہ، دوسرے حق العباد حق اللہ تو - یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کی اطاعت ، عبادت، توحید، ذات اور صفات میں کسی دوسری ہستی کو شریک نہ کرنا۔ اور حق العباد یہ ہے کہ اپنے بھائیوں سے تکبر، خیانت اور ظلم کسی نوع کا نہ کیا جاوے۔ گویا اخلاقی حصہ میں کسی قسم کا فتور نہ ہو۔ سننے میں تو یہ دو ہی فقرے ہیں۔ لیکن عمل کرنے میں بہت ہی مشکل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل انسان پر ہو تو وہ ان دونوں پہلوؤں پر قائم ہو سکتا ہے۔ کسی میں قوت غضبی بڑھی ہوئی ہوتی ہے جب وہ جوش مارتی ہے تو نہ اس کا دل پاک رہ سکتا ہے اور نہ زبان ۔ وہ دل سے اپنے بھائی کے خلاف نا پاک منصوبے کرتا ہے اور زبان سے گالی دیتا ہے۔ اور پھر کینہ پیدا کرتا ہے۔ کسی میں قوت شہوت غالب ہوتی ہے اور وہ اس میں گرفتار ہو کر حدود اللہ کو توڑتا ہے۔ غرض جب تک انسان کی اخلاقی حالت بالکل درست نہ ہو وہ کامل ایمان جو منعم علیہ گروہ میں داخل کرتا ہے اور جس کے ذریعہ سچی معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے داخل نہیں ہو سکتا ۔ پس دن رات یہی کوشش ہونی چاہیے کہ بعد اس کے جو انسان سچا موحد ہو اپنے اخلاق کو درست کرے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی ہے ۔ اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ اپنے بھائی سے نیک فنی نہیں رکھتے اور ادنی ادنی سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بڑے بڑے خیالات کرنے لگتے ہیں اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لیے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے، کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور انس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض ،حسد وغیرہ سے بچارہتا ہے۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لیے کچھ بھی ہمدردی نہیں ۔ اگر