ملفوظات (جلد 7) — Page 60
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ہفتم اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔ کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشے سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔ اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔ دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے۔ جماعت احمد یہ کے قیام کی غرض میں یہ سب باتیں بار بار س لیے کہتا ہوں کہ خدا تعالی نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقوی وطہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔ عام طور پر تکبر کا لفظ دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں ۔ فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے ۔ ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے ۔ اس لیے ان کے مجاہدہ اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کی ہیں جیسے ذکر آرہ وغیرہ ۔ جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا ۔ میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے۔ جس میں روحانیت کا کوئی نام ونشان نہیں ۔ یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں ۔ پس یہ زمانہ اب بالکل خالی ہے۔ نبوی طریق جو پاک ہونے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اس کو بھلا دیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہد نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ و طہارت پھر قائم ہو۔ اور اس کو اس نے اس جماعت کے ذریعہ سے چاہا ہے۔ پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کا طریق بتایا ہے ۔