ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد ہفتم کمزوری کا اعتراف کرنے لگا۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔ وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اس لیے دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ إِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف: ۲۴) یہی وہ سر ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو کہا گیا کہ اے نیک استاد! تو انہوں نے کہا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے۔ اس پر آجکل کے نادان عیسائی تو یہ کہتے ہیں کہ ان کا مطلب اس فقرہ سے یہ تھا کہ تو مجھے خدا کیوں نہیں کہتا۔ حالانکہ حضرت مسیح نے بہت ہی لطیف بات کہی تھی جو انبیاء علیہم السلام کی فطرت کا خاصہ ہے۔ وہ جانتے تھے کہ حقیقی نیکی تو خدا تعالیٰ ہی سے آتی ہے وہی اس کا چشمہ ہے اور وہیں سے وہ اترتی ہے۔ وہ جس کو چاہے عطا کرے اور جب چاہے سلب کر لے۔ مگر ان نادانوں نے ایک عمدہ اور قابل قدر بات کو معیوب بنا دیا اور حضرت عیسیٰ کو متکبر ثابت کیا !!! حالانکہ وہ ایک منکسر المزاج انسان تھے ۔ پاک ہونے کا طریق پس میرے پاک ہونے یہ عدہ رے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔ نہ علمی، نہ خاندانی ، نہ مالی ۔ جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔ آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔ اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ ، ایمان، عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔ پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے ۔ اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔ پھر