ملفوظات (جلد 7) — Page 58
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۸ جلد ہفتم اس روشنی کے لیے کوئی نہیں بلکہ اس کا فخر آفتاب کو ہے اور ایسا ہی وہ آفتاب کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تو اس روشنی کو اٹھا لے۔ اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کے نفوس صافیہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض سے معرفت کے انوار ان پر پڑتے ہیں اور ان کو روشن کر دیتے ہیں اسی لیے وہ ذاتی طور پر کوئی دعوی نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فیض کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہی سچ بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اعمال سے داخل جنت ہوں گے تو یہی فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ۔ انبیاء علیہم السلام کبھی کسی قوت اور طاقت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے وہ خدا ہی سے پاتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں۔ ہاں ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میں ہوتے ہیں جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے۔ کے یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔ جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضانِ الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے نہ نہ علم کے لحاظ سے نہ نہ دولت کے لحاظ سے نہ نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے ۔ کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا۔ اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے مواد ردیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا ۔ شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِين (الاعراف: ۱۳ ) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا اور آدم لغزش پر ( چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی ) اپنی البدر میں ہے۔ جواب دیا کہ ہرگز نہیں بلکہ خدا کے فضل سے (البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ رجنوری ۱۹۰۵ صفحه (۳) البدر میں ہے ۔ ہاں انبیاء سے نیچے جو لوگ ہوتے ہیں ان میں کوئی رگ تکبر کی باقی رہ جاوے تو عجب نہیں ۔ کیونکہ یہ تو وہ بلا ہے کہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ بعض لوگ حاجی بھی بن آتے ہیں مگر تکبر اور نخوت ان میں بدستور لوا پائی جاتی ہے۔ 66 البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه (۳)