ملفوظات (جلد 7) — Page 57
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۷ جلد ہفتم حاصل نہ کر لے تزکیہ نفس کامل طور پر نہیں ہوتا۔ اور انسان ان کمالات اور انعامات کا وارث نہیں بنتا جو تزکیہ نفس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان اخلاقی بدیوں سے ہم نے خلاصی پالی ہے لیکن جب کبھی موقع آ پڑتا ہے اور کسی سفیہ سے مقابلہ ہو جاوے تو انہیں بڑا جوش آتا ہے اور پھر وہ گندان سے ظاہر ہوتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت پتہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور وہ تزکیہ نفس جو کامل کرتا ہے میسر نہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تزکیہ جس کو اخلاقی تزکیہ کہتے ہیں بہت ہی مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اس فضل کے جذب کرنے کے لیے بھی وہی تین پہلو ہیں ۔ اوّل مجاہدہ اور تدبیر ۔ دوم دعا۔ سوم صحبت صادقین ۔ ی فضل الہی انبیاء علیہم السلام پر بدرجہ کمال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اول ان کا تزکیہ اخلاقی کامل طور پر خود کر دیتا ہے ۔ ان میں بداخلاقیوں اور رذائل کی آلائش رہ ہی نہیں جاتی ۔ ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سلطنت پا کر بھی وہ فقیر ہی رہتے ہیں اور کسی قسم کا کبران کے پاس نہیں آتا۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر تزکیہ نفس حاصل نہیں ہوتا در حقیقت یہ گند جونس کے جذبات کا ہے اور بداخلاقی ، کبر، ریا وغیرہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔ اور یہ مواد ر د یہ جل نہی چل نہیں سکتے جب تک معرفت کی آگ ان کو نہ جلائے ۔ جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ہے اور بڑا ہو کر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔ وہ اس نور اور روشنی کو جو انوارِ معرفت سے اسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اسے خدا تعالیٰ ہی کا فضل اور رحم یقین کرتا ہے جیسے ایک دیوار پر آفتاب کی روشنی اور دھوپ پڑ کر اسے منور کر دیتی ہے لیکن دیوار اپنا کوئی فخر نہیں کر سکتی کہ یہ روشنی میری قابلیت کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک دوسری بات ہے کہ جس قدر وہ دیوار صاف ہوگی اسی قدر روشنی زیادہ صاف ہوگی لیکن کسی حال میں دیوار کی ذاتی قابلیت